ذمہ داریاں دینے پرپی سی بی کا مشکورہوں‘ مصباح الحق

لاہور(اسپورٹس ڈیسک ) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ وچیف سلیکٹر بننا بہت بڑا اعزاز ہے، ذمہ داریاں دینے پرپی سی بی کا

مشکورہوں،آپ کی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ آپ اگلی ٹیم پر چڑھ دوڑیں اور اسے لٹا دیں لیکن ہمیشہ وسائل اور حالات کے مطابق منصوبہ بندی کی جاتی ہے،سب نے دیکھا ہے کہ تنقید برائے تنقید کو کیسے ڈیل کیا۔خامیوں کو دورکرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے،فائنل الیون کا فیصلہ کپتان کو کرنا چاہیے، کپتان کو سلیکشن میں اہمیت دینی چاہیے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پی سی بی کےچیف ایگزیکٹو وسیم خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ 17 سال کرکٹ کھیلی اور اس دوران آپ سب نے دیکھ لیا کہ تنقید برائے تنقید کرنے والوں کا کس طرح سامنا کیا۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ تنقید کرنے والوں کی بات سنیں اور اگر آپ کو بہتری کی گنجائش نظر آئے تو بہتری لائیں.

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں پروفیشنلزم کس طرح لانا ہے اس پر کام کرنا ہے ۔ وقاریونس کے کام میں مداخلت نہیں کروں گا۔کپتان کو سلیکشن میں اہمیت دینی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ جب ہم دفاعی اور جارحانہ کرکٹ کی بات کرتے ہیں تو اس حوالے سے تھوڑی سی کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔آپ کوشش کرتے ہیں اور آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ اگلی ٹیم پر چڑھ دوڑیں اور لٹا دیں اور یقینا میں بطور کوچ میں یہ کوشش کروں گا کہ ایسی ٹیم بنائیں اور اتنی جارحانہ کرکٹ کھیلیں کہ کوئی بھی میچ آرام سے جیت جائیں لیکن آپ کو ہمیشہ اپنی مخالف ٹیم کی طاقت اور حالات دیکھ کر ہی منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے۔

مصباح الحق نے اس موقع پر آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019ء میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا تھا ورلڈکپ میں انگلینڈ جیسی کوئی ٹیم ہی نہیں جو ماڈرن کرکٹ کھیل رہے ہیں اور ان کے پاس ایسے بلے باز ہیں جو کسی کے پاس نہیں ہیں ،جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم بالکل مختلف اور 80 کی سوچ کیساتھ کرکٹ کھیل رہی تھی کیونکہ انہوں نے اپنے وسائل کے مطابق منصوبہ بندی کی اور پھر نتیجہ بھی آپ نے دیکھ لیا۔اس سے قبل پی سی بی کے سی ای او وسیم خان نے مصباح الحق کے ہیڈ کوچ بننے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وسیم خان نے کہا کہ 21۔2020 میں دوبڑے انٹرنیشنل ایونٹس آرہے ہیں، مصباح کے تجربے سے فائدہ ہوگا۔