عالمی عدالت میں بھارت کے جھوٹ کا پول کھلنے لگا

 دی ہیگ ( ویب ڈیسک )عالمی عدالت میں بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہونے لگا۔ جھوٹا بھارت پاکستان میں پکڑے جانے والے اپنے

جاسوس کلبھوشن یادیو کی ریٹائرمنٹ کا ثبوت دینے میں ناکام رہا۔’چور مچائے شور‘ کے مصداق عالمی عدالت انصاف میں’ را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا کیس لے کر جانے والی بھارت کی مودی سرکارکیلئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں پیر 18فروری کو ہونے والی سماعت میں بھارتی وکلاء پاکستان میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والےانڈین دہشت گرد خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حاضر سروس افسر  کلبھوشن جادیو کی ریٹائرمنٹ کے ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ جس کے بعد کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

کلبھوشن جادیو کو حسین مبارک پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹ پر بھی بھارت عدالت میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کا کہنا ہےکہ  بھارتی حکومت نے کلبھوشن کو  حسین مبارک کے نام سے پاسپورٹ جاری کیا تھا اورکلبھوشن جعلی شناخت پر سفر کرتا رہا ہے۔ حسین مبارک پٹیل کی جعلی شناخت سے کلبھوشن جادیو نے 17 بار نئی دلی کا دورہ کیا.

برطانوی ادارہ کلبھوشن جادیو کا پاسپورٹ اصلی قرار دے چکا ہے جبکہ اس کی شناخت جعلی ہے۔ اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور کی قیادت میں ڈاکٹر فیصل اور خاور قریشی پر مبنی پاکستان کا وفد بھی عالمی عدالت میں موجود ہے۔

پاکستانی وکلاء بھارتی دلائل کے بعد منگل کو  کلبھوشن کی تخریب کاری سے متعلق شواہد عالمی عدالت انصاف میں پیش کریں گے۔پاکستانی دلائل کے بعد 20 فروری کو ایک بار پھر بھارت کو اپنا موقف دوبارہ پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کے بعد 21 فروری کو پاکستان اپنے حتمی دلائل دے گا۔