آئی ایم ایف کیے قرضے کی قسط کیلئے عوام کی جیبوں سے اربوں نکالنے کی تیاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ) 2020 کے پہلے تین ماہ ،عوام پر بھاری۔ آئی ایم ایف کی

54کروڑ ڈالر قسط کے لیے عوام کی جیبوں سے اربو ں روپے نکالنے کا پلان تیار کر لیا گیا۔ بجلی گیس کے بلات میں اضافہ ہوگا جبکہ بینک بھی عوام کے لئے مشکلات بڑھائیں گے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی چار شرائط پر عملدرامد شروع کردیا پہلی شرط کے مطابق حکومت 30 جنوری تک نجی پاور کمپنیوں کو مکمل پیداواری صلاحیت پر چلانے کے لیے پابند کرے گی حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ 155ارب روپے کے سالانہ کیپسیٹی چارجزکا 25 فیصد بجلی بلوں سے وصول کیا جائے گا اور بجلی بلوں کے ذریعہ 40 ارب روپے سے زائد وصول کیے جائیں گے۔

 ذرائع کے مطابق گیس نرخوں میں بھی 214 فیصد اضافے بھی کرنا ہوگا۔دوسر ی شرط کے مطابق حکومت28 فروری تک اپنی آمدن ،اخراجات اور بچت پارلیمنٹ کو بنانے کی پابند کرے گی جبکہ پارلیمان کی سفارشات کی روشنی میں نئے مالی سال کا نظم ونسق بہتر بنایا جائے گا۔

تیسری شرط حکومت 31 مارچ تک اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کابل پارلیمان میں لانے کی پابند ہوگی جبکہ بل کے تحت خسارہ پورا کرنے کے لیے نئے نوٹ نہیں چھاپے جا سکیں گے، اس کے ساتھ گورنر اسٹیٹ کی ملازمت کے تحفظ اور کام کرنے میں آزادی و خودمختاری ہو گی چوتھی شرط کے مطابق حکومت ایف اے ٹی ایف کی شقوں پر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کی پابند ہوگی۔

 ایف اے ٹی ایف کی شقوں کے ذریعہ بینک اپنے صارفین کے لین دین کی کڑی نگرانی کریں گے، جبکہ ایف اے ٹی ایف پلان پر عمل کروانے والے اداروں پر بینک سیکریسی قوانین لاگو نہیں ہوں گے یہ ادارے ہر مشکوک ٹرانزیکشنز کی معلومات حاصل کرسکیں گے حکومت کی جانب سے یہ چار شرائط پوری ہونے پر ہی تیسری قسط مل سکے گی۔