نومسلم بہنوں کوشوہروں کےساتھ جانے کی اجازت

 اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نےگھوٹکی کی 2نومسلم بہنوں کے تحفظ سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئےانہیں شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت

دے دی ۔کیس کی سماعت چیف جسٹس جسٹس اطہرمن اللہ نےکی۔ سیکرٹری  داخلہ،کمیشن  کے ارکان اور لڑکیوں کے والدین عدالت میں پیش ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ نےعدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر کمیشن تشکیل دیا گیا۔سیکرٹری داخلہ نے عدالت کوبتایاکہ چیف سیکرٹری سندھ نے اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے۔ بظاہر یہ زبردستی مذہب تبدیلی کا کیس نہیں لگتا۔

 میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق آسیہ کی عمر 19 اور نادیہ کی عمر 18 سال ہے۔لڑکیوں نے زبردستی مذہب تبدیل نہیں کیا۔مذہب تبدیلی میں لڑکیوں کی مدد ضرور کی گئی۔

عدالت نےریمارکس دیے کہ لڑکیوں کے بیان کے بعد اس تمام کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انکوائری اس لیے کرائی گئی کہ والدین کی تسلی ہو جائے۔ معاملےکی حساسیت کودیکھتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا۔انکوائری اس لیے کرائی کہ دنیا جان جائے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بات طے ہوچکی کہ زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا۔ان دو لڑکیوں کی حد تک معاملہ واضح ہے کہ مذہب زبردستی تبدیل نہیں ہوا۔عدالت نےدونوں لڑکیوں کو ان کے شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دے رہی ہے۔