
کراچی (ویب ڈیسک )سی ٹی ڈی نےبھی یونیورسٹی روڈصفوراکےقریب پولیس فائرنگ سےننھےاحسن کاشف کی ہلاکت کی جاری تفتیش میں
گرفتارکیےجانے والے چار پولیس اہلکاروں نےابتدائی بیان میں ننھےاحسن کے قتل کااعتراف کرلی۔
ایسٹ سے ساؤتھ زون اور پھر سی ٹی ڈی منتقل کی جانے والی ننھے احسن قتل کی تفتیش میں گرفتار سچل تھانے کے چارپولیس اہلکاروں خالد اقبال، امجد خان، عبدالصمد، پیرو خان کے الگ الگ بیانات قلم بند کرنے کام مکمل کرلیا ،
سی ٹی ڈی افسران کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کے عینی شاہدین ، ہتھیار کے خول اور دیگر شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ واقعے والے روز سچل کے اہلکاروں کا کسی ملزمان سے مقابلہ نہیں ہوا تھا اور پولیس اہلکار کسی اور مقام پر اسنیپ چیکنگ میں مصروف تھے، عبدالصمد اورامجد علی نامی پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی ہوئی، تلخ کلامی کے بعد عبدالصمد نے چھوٹے پستول سے فائرنگ کی،عبدالصمد کے پستول سے فائرنگ کی گئی جسکی گولی احسن کو لگتی ہوئے اسکے والد کاشف کے پاؤں سے چھوتے ہوئے نکل گئی ،ایس ایس پی ملیر عرفان علی بہادر نے غلط بیانی کرنے پرایس ایچ او سچل جاوید ابڑو کو معطل کیا ہے ،
ایس ایچ او نے واقعہ کے بعد بتایا کہ بچے کی موت پولیس مقابلے کے دوران ہوئی ہے ،واضح رہے کہ احسن کے تدفین کے موقع پر ہی مقتول کے دادا نے کہاتھا کہ مقابلہ نہیں،اہلکاروں میں جھگڑا ہورہا تھا اس ہی جھگڑے میں چلنے والی گولی میرے پوتے اور بیٹے کو لگی تھی ۔














