
اسلام آباد:ابوزیشن نے عید الفطر کے بعد اے پی سی بلانے کا اعلان کردیا،ساتھ ہی پارلیمنٹ کے اندراورباہر احتجاج
کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے زرداری ہاؤس میں منعقدہ دعوت افطار میں سابق
صدر آصف علی زرداری ،سابق وزیراعظم ،لیگی رینما شاہد خاقان عباسی ،جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل ،لیاقت بلوچ ،اے این پی کے زاہد خان ،میاں افتخار،محمود اچکزئی
جنرل لیاقت بلوچ،حمزہ شہباز شریف ،ایاز صادق،پرویز رشید ،خواجہ آصف ومریم اورنگزیب اور دیگر رہنما شریک تھے۔قبل ازیں بلاول بھٹوزرداری اور مریم نواز کے علحیحدہ ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی
صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اورباہمی مشاورتی عمل جاری رکھنے پراتفاق کیا۔
بلاول بھٹوزرداری نےکہا کہ عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج ہوگا، عید کے بعد فضل الرحمان کی قیادت میں اے پی سی بلائی جائے گی،۔عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کوغریب عوام کا احساس ہی نہیں ،۔ ملک کی معیشت کو دائو پر لگا دیا گیا،۔گیس مہنگی ، کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہیں اور ادویات تک کو مہنگا کردیا گیا ہے، اپوزیشن مل بیٹھے گی تو بہترین پالیسی اور مسائل کا حل نکال سکےگی۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،ملک اقتصادی طور پر بیٹھ رہا ہے ،عید کے بعد تمام سیاسی جماعتیں میدان میں اترنے کو تیار ہیں،۔ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنا یا جائے گا۔عید کے بعد اپوزیشن نے اے پی سی کی ذمہ داری مجھےسونپی ہے،ہچکولے کھاتی کشتی کو کنارے پر لانے کی ہماری مشترکہ کوشش ہوگی۔
شاہد خاقان عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام کے مفاد کی بات کرنی ہے۔ پارلیمان میں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔حکومت ملک چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی، احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عید کے بعد فیصلہ ہوگا کہ اپوزیشن کیا مشترکہ لائحہ عمل طے کرتی ہے ۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا سیلاب تو ابھی ابتدا ہے ۔

مریم نواز نے کہا کہ بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھے افطار کی دعوت دی۔یہ دعوت میں نے اس لئے قبول کی کہ بلاول بھٹو اپنے والد کے ساتھ میری والدہ کی وفات پر جاتی امرا تشریف لائے اور میری والدہ کی وفات پر تعزیت کی۔
میڈیا پر چل رہا تھا کہ بلاول اور مریم کی پہلی ملاقات ہوگی۔یہ پہلی ملاقات نہیں ہے ، پہلی ملاقات رائیونڈ میں والدہ کے انتقال پر ہوچکی ہے ۔جب بلاول بھٹو میاں نوازشریف کو ملنے جیل گئے جب ان کی طبیعت ناساز تھی تو مجھے بہت اچھا لگا۔جس ہمدردی اور نیک تمنائوں کا انہوں نے اظہار کیا وہ بھی مجھے بہت اچھا لگا۔
مریم نواز نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمو کریسی کا پاکستان کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو جمہوری پارٹیوں نے اپنی پانچ سالہ حکومت کی مدت پوری کی۔
پیپلز پارٹی پہلے جیتی اور پانچ سال حکومت میں پورے کئے کیونکہ ن لیگ نے ان کی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی۔صرف عوام کی طاقت اور ووٹ کی عزت سمجھ کر پانچ سال پورے کرنے دئیے اور حکومت کوسپورٹ کیا اور جب ن لیگ کی حکومت بنی تو آصف زرداری صدر تھے اور بڑے اچھے طریقے سے ایک جمہوری حکومت نے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار حوالے کیا جس سے لوگوں کے ووٹ کی عزت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمو کریسی ابھی ختم نہیں ہوا ، اب بھی جاری ہے ۔چارٹر آف ڈیمو کریسی جمہوریت کیلئے بہت اہم ہے ۔آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ ہم اس میں کوئی نئی چیزیں شامل کرینگے ۔نوجوان قیادت سمجھتی ہے کہ کوئی ایجنڈا ہونا چاہئے ۔
مریم نواز نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی روایتی حریف رہے ہیں لیکن ماں باپ کی تربیت ایسی ہے ،پارٹیوں کے اقدار بھی اچھے ہیں ۔ہم مقابلہ میدان میں کرتے ہیں ۔جب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے ہیں تو پورے خلوص کے ساتھ ہوتے ہیں ۔














