قرضوں کی فراہمی کیلئے 100ارب روپے مختص

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی کابینہ نے نئی تعلیمی پالیسی،کامیاب نوجوان پروگرام اور جامع اقتصادی لائحہ عمل

کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان مشیر خزانہ ہفتہ کو کریں گے۔

کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی کیلئے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 6فیصد اور 8فیصد کی شرح پر یہ قرضے جاری کیے جائیں گے ، نوجوان خواتین کیلئے مجموعی قرضوں کا 25فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا ۔

کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا۔ کا بینہ کا  دس نکاتی ایجنڈا تھا ۔وفاقی وزیرعلی محمد مہر کی وفات پر کابینہ نے دکھ کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم اور کابینہ نے مرحوم کے خاندان سے کا اظہار تعزیت کیا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر تعلیم نے تعلیم کے حوالے سے پالیسی کابینہ کے سامنے رکھی۔ تعلیمی پالیسی میں لٹریسی ریٹ اور ووکیشنل ٹریننگ کے حوالے سے تمام تر اہداف طے کیئے گئے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جہالت کے گہرے سائے نے پاکستان کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، نئی تعلیمی پالیسی سے بہت سارے قومی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ دور حاضر کے چیلنجز کے مطابق کابینہ نے تعلیمی پالیسی کا جائزہ لیا کیونکہ تعلیم صوبائی معاملہ ہے اس لئے ایسا ریگولیٹری مکینزم ترتیب دیا گیا ہے جس سے صوبوں کی مدد ہو سکے گی ۔ وفاق نے تعلیم کے بارے میں ترجیحات کا تعین کیا ہے۔

۔ انہوں نے کہاکہ یکساں نصاب تعلیم اور معیاری تعلیم تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا حصہ ہے، پاکستان کو جہالت سے نکال کر روشنیوں میں لانے کی پالیسی ہے، 18 سے 35 سال عمر کے 65 فیصد نوجوان ہیں، نوجوانوں کو روزگار،کاروبار، تجارتی سرگرمیوں میں مواقع فراہم ہوں گے۔ پروگرام کے تحت ایک لاکھ سےپانچ لاکھ کے قرضے 6فیصد ، پانچ سے پچاس لاکھ کےقرضے8فیصد پردئیےجائیں گے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس پروگرام سے پاکستان میں معاشی انقلاب آئےگا نہ صرف روزگار کی تلاش میں نوجوان پائوں پر کھڑا ہوسکے گا دیگر نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم کرے گا اور مہنگائی اور بیروزگاری کے شکنجے میں کسے پاکستانی نوجوانوں کو عمران خان کا کامیاب پروگرام دستیاب ہوگا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چھ ہفتے میاں صاحب فائیو اسٹار گھر میں لیٹے رہے۔ یہ کیسی پراسرار بیماری ہے جو گھر جاتے ہی ٹھیک ہو جاتی ہے اور جیل جاتے ہی جان لیوا ہو جاتی ہے۔ میاں صاحب طے کر لیں بیماری کیا ہے،حکومت معاونت کرے گی۔