نیب کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں،چیف جسٹس

اسلام آباد( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )چیف جستس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب کی وجہ جہ لوگ ذہنی دباؤ کا شکار

ہیں ،نیب آخر کیا کر رہا ہے؟

یہ ریمارکس انہوں نے کرپشن کیس میں ملزم کی بریت کیخلاف نیب کی اپیل کی سماعت کر تے ہوئے دیئے۔چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ملزم جہان خان کے اثاثے آمدن سے زیادہ نہیں ،80لاکھ کی آمدن میں 46لاکھ کے اثاثے بنانا سمجھ میں آتا ہے ،نیب کی طرف سے ملزم کو 2001سے 2019 تک کیس میں کھسیٹاگیا،19سال کا ازالہ کیسے کیا جائے گا ۔

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھو سہ نے کہا کہ کیس میں نیب پر جرمانہ ہونا چاہیے،اس کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں ،کیس ثابت کرنا ،اس سزا دلوانا بھی ہے،نیب جس پر الزام لگائے اس کیخلاف شواہد بھی دے ۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کی ملزم کو انیس سال رگڑا لگایا گیا،جس عہدے پر اس کے خلاف کرپشن کا الزم ہے اس کا ثبوت نہیں ہے۔نیب کے رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی طورپر دبآ کا شکار ہیں ۔