
اسلام آباد: مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کچھ مشکل فیصلے کیےہیں جو وقت کاتقاضا ہیں۔آئی ایم ایف کےخلاف منفی پروپیگنڈا
پرعوام کان نہ دھریں،جن کو آئی ایم ایف پروگرام سے مسئلہ ہے وہ متبادل معاشی پلان پیش کریں۔
پوسٹ بجٹ سیمینارسےخطاب کرتےہوئےمشیرخزانہ حفیظ شیخ کاکہنا تھا کہ جب موجودہ حکومت آئی تو قرضہ 31 ہزار ارب روپےتھا،تجارتی خسارہ 32ارب ڈالراورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، سود کی مد میں 2000 ارب روپےخرچ ہورہےتھےاور مالیاتی خسارہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔
حفیظ شیخ نے کہا کہ ہمیں اپنےآپ سے پوچھنا چاہیےکہ ہم آج اس نہج پر کیسے پہنچے۔
انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل جاری معاشی مسائل پر توجہ کیوں نہیں دی گئی، پاکستان کی 70 سالہ تایخ میں آج تک ترقی کا کوئی رجحان 4 سال سے زائد جاری نہیں رہا، ہم نے طویل المدتی اقتصادی ترقی کا رجحان کیوں حاصل نہیں کر سکے۔
حفیظ شیخ نےکہا کہ امید ہے کہ آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالرزجلد مل جائیں گےاورملنے والے قرضے پرشرح سود مارکیٹ سے بہت کم ہے،آئی ایم ایف بورڈتین جولائی کو پاکستان کیلئےقرضہ منظور کرنے کاجائزہ لے گا اور پروگرام پر فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مثبت فیصلے کی توقع ہے۔عالمی بینک پاکستان کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کی اضافی فنانسنگ دے گا،جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی تین اعشاریہ چار ارب ڈالربجٹ سپورٹ میں دے گا،اس میں سے دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر اسی سال میں گے۔














