
لاہور(ویب ڈیسک،فوٹو:فائل ) پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا موقف ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے،کٹھ پتلی
وزیر اعظم کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں،میں ان سے بات کروں گاجو دلچسپی رکھتے ہیں۔مریم نواز کی جانب سے لنچ کی دعوت قبول کرلی ہے۔
پنجاب ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس کےبعدمیڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نےکہا کہ حکومت کو معلوم ہے آصف علی زرداری واحد سیاستدان ہے جو تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا کر سکتا ہے،اگر وہ اندر ہوگا تو حکومت ظالمانہ بجٹ منظور کر اسکتی ہے اور جعلی اورنا لائق حکومت کو تحفظ مل سکتا ہے ۔ہم نے ایسے ہتھکنڈوں کا پہلے بھی مقابلہ کیا ہے آئندہ بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے جتنا دبائو ڈالنا ہےڈال لو، میرے پورے خاندان چاہے ساری پارٹی کو جیل میں ڈال دو لیکن جمہوریت، 1973ء کے آئین ،اٹھاریں ترامیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی اپنی موقف نہیں بدلے گی ، آج عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں ،اداروں کو دھونس اور دھاندلی سے چلایا جارہا ہے ،پارلیمنٹ کی اہمیت نہیں ہے ،پھر آمر کے پاکستان اور نئے پاکستان میں کیافرق ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نئے پاکستان میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کی جو صورتحال ہے سب اس سے آگاہ ہیں ۔ نالائق وزیراعظم نے سب سے بڑے صوبے کےلئے سب سے نالائق وزیراعلی چناہے ،جسے ہاتھ ملانے کا نہیں پتہ وہ حکومت کیسے چلائے گا۔
انہوں نے کہا ہم نے ضیاء ، ایوب اور مشرت کا مقابلہ کیا لیکن وہ کہاں ہیں او رہم کہاں ہیں۔ انہوں نے ان ہائوس تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ ہمارا مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی یہی موقف تھاکہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے اور اب بھی یہی موقف ہے کہ پارلیمان کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے ۔حکومت ابھی تک خود کو کنٹینر پر سمجھتی ہے اورسنجیدہ نہیں ہے














