مکان مالکان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا منصوبہ تیار

کراچی :وفاق کی ہدایت پر فیڈرل بورڈآف ریونیو ( ایف بی آر)نےکراچی میں پراپرٹی سروے کاآغاز کردیا،سروے کامقصد مالک مکان اور پراپرٹی ڈیلرز

کوٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

 فیڈرل بورڈآف ریونیو ( ایف بی آر)کراچی سمیت صوبے بھرمیں پہلے مرحلے میں کراچی میں کرائے کے گھروں کے لیے رینٹ کی سرکاری شرح مقررکرنےکیلئے کام شروع کردیا ہےجس کے بعد مالک جائیداد اپنے گھر،بنگلوز،مکان اورفلیٹ مقررہ سرکاری قیمت پرکرائے پردیئے جاسکیں گے اورسرکاری ریٹ کے حساب سے ان پرٹیکس کابھی نفاذ ہوسکےگا۔

 ایف بی آرکےذرائع کے مطابق کرائے پردیےجانے والے مکان کے مالک کو 17 سے 25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا،اسی طرح کراچی میں ایک نام پرایک سےزیادہ گھر،پلاٹ، اپارٹمنٹ، بنگلہ خریدنےوالے کو بھی 10 سے 20 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اسٹیٹ ایجنسی کے قیام کیلئےبھی ایف بی آرنے تین برس کے لائسنس کی فیس 50ہزارروپے مقررکرنے کافیصلہ کیا ہے اور اسٹیٹ ایجنسیوں کو مانیٹر کر کے سالانہ اسٹیٹ ایجنسی کی کمائی پر 25 فیصد ٹیکس کے نفاذ کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

کراچی میں گھر بنگلہ پلاٹ فروخت کرنے والے پرپانچ فیصد ٹیکس کےنفاذ کی تجویز ہے۔اس سلسلہ میں ایف بی آر نے مکان دیگرجائیداد مالکان کو نئے قوانین کے تحت لانے کیلئے کراچی کے تمام تھانوں سے رسائی مانگ لی ہے ۔