مریم اوربلاول حکومت کیخلاف جدوجہد پرمتفق

لاہور(ویب ڈیسک ،فوٹو:این این اآئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی

نائب صدر مریم نواز نے حکومت کے خلاف جدوجہد پر اتفاق کیا ہے۔

رائے ونڈ میں ہونے والی ملاقات میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے جمہوریت و آئین کی بالادستی کیلئےقربانیاں دی ہیں۔آزاد عدلیہ پر نالائق اور جھوٹی حکومت کا حملہ قبول نہیں کیا جائے گا،پھا نسی اور جیلیں دیکھنے و الی جماعتوں کو سلیکٹڈ حکومت ڈرا نہیں سکتی 10ماہ میں ملک کا معاشی بحران ناقابل برداشت صورتحال اختیار کر چکا ہے،جبکہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ووٹ چور اور کٹھ پتلی حکومت عوام کی ترجمانی نہیں کر سکتی، ۔

 دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے رہنماشریک ہوئے۔ملاقات میں موجودہ ملکی صورت حال پرتفصیل سےغور کیاگیا۔اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ ملک ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار ہےاوراْسے اقتصادی تباہ حالی کی دلدل میں دھکیل دیا گیاہے،معاشی اعشاریئے بحران کی جانب جارہے ہیں۔ 

  قومی ادارے غیروں کے سپر د کرنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت ،افراطِ زر (مہنگائی) کی بڑھتی ہوئی شرح، دس ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے ذخائر،اسٹاک ایکسچنج کی بحرانی صورت حال،قومی شرح نمود جی ڈی پی کانصف رہ جانا،بیرونی اوراندرونی سرمایہ کاری کارْک جانا۔ترقیاتی منصوبوں پر کام کاخاتمہ ،سی پیک کی سْست رفتاری ، حکومتی دعوؤں اورقومی سطح پر چھائی مایوسی و بے یقینی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے کہ بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

دس ماہ میں دو منی بجٹ دینے کے بعد حکومت کے پہلے قومی بجٹ نے نہ صرف معیشت کے سنبھلنے کے تمام امکانات ختم کر دیئے ہیں بلکہ عام آدمی پرٹیکسوں اور مہنگا ئی کانا قابل برداشت بوجھ لاددیا ہے۔ غر یب کم آمدنی اور متوسط طبقے کے لوگ ، مزدور ، محنت کش ، کسان اور ملازمت پیشہ افراد کےلئے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ بجلی ، گیس، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کےتیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی گئی ۔

 ملاقات میں چئیرمین،نیب کی یک طرفہ انتقامی کارروائیوں اورحکومتی ملی بھگت کےساتھ اپوزیشن کےساتھ ٹارگیٹڈ  سلوک پر بھی غور کیا گیا۔ نیب کے جعلی ، بے بنیاد اور من گھٹرت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ 

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اتفاق کیا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی۔ دونوں قومی حماعتوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دھاندلی زدہ انتخابات کے جعلی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوتے مثبت طرز عمل اپنایا لیکن دس ماہ کے دوران حکومت کی نا اہلیت نے نہ صرف معیشت بلکہ قومی سیاست و انتظامی کارکردگی کو بھی تما شا بنا دیا ہے۔ 

 دونوں رہنمائو ں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور اْن جماعتوں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے گا۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کےخلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔  دونوں رہنماؤں کی جج صاحبان کےخلاف حکومت کی جانب سےریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت کی ۔دونوں جماعتوں کاعدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔