
کراچی (رنگ نو ڈاٹ کام )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ عمران خان نے کہاتھا کہ میں قوم سے جھوٹ نہیں بولوں
گا لیکن افسوس کہ آج عمران خان قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں ،عوام آج جن مشکلات کا شکار ہیں وہ حکمرانوں اور موجودہ حکومت کی نااہلی و نالائقی کی وجہ سے ہے ۔
جماعت اسلامی نےملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ،آئی ایم ایف کی غلامی و ظالمانہ بجٹ اورصوبے اور ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کو اس کے حقوق اور اختیارات کی عدم فراہمی، بجلی ، پانی ، ٹرانسپورٹ ،سڑکوں کی خستہ حالی اور صفائی ستھرائی سمیت شہریوں
کودرپیش دیگر مسائل کے حل کیلئے شروع کی گئی تحریک ’’کراچی کوعزت دو ‘ حقوق دو ‘‘ کے سلسلے میں سہراب گوٹھ سے مزار قائد عظیم الشان ’’کراچی عوامی مارچ ‘‘کیا جو سہراب گو ٹھ سےشروع ہوکر نیوایم اے جناح روڈ پراختتام پذیرہوا۔ ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔
مارچ سے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ،امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر ضلع
جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید و دیگر نے بھی خطاب کیاجبکہ دیگر رہنما بھی موجود تھے،
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اپنے پلیٹ فارم سے تھرڈ آپشن کے طور پر عوام کے
درمیان موجود رہیں گے ،موجودہ حکومت وینٹی لیٹرپر ہے اور اب اس حکومت سے عوام کو کوئی امید اور توقعات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئی ایم ایف کی حکومت قبول اور تسلیم نہیں کرتی ، ہم آزاد اور خود مختار قوم ہیں ،آئی ایم ایف اورورلڈ بنک کی غلامی قبول نہیں کریں گے ۔ 12جولائی کو عوامی تحریک کے سلسلے میں ملتان میں عوامی مارچ ہوگا۔عوام ملک میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔یہ جدوجہد خون کے آخری قطرے اور آخری سانس تک جاری رہے گی ۔

اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کراچی کو اس کا جائز حق دینے اور مسائل کو فی الفور حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا
۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اہل کراچی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج جوق در جوق گھروں سے نکل کر عوامی مارچ میں شرکت کر کے نہ صرف کراچی کی بلکہ پورے ملک کے 22کروڑ عوام کی ترجمانی کی ۔آج ملک میں بے شمار مسائل ہیں ،بجلی ، پانی کا مسئلہ ہے اور اب تو سانس لینے کا بھی مسئلہ ہے ۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کا کوئی معاشی وژن نہیں ہے ،مرغی کے انڈے فروخت کر کے اور بکری کے بچے فروخت کر کے معیشت کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔حکمرانوں کی زبان ہی نہیں پھسلتی بلکہ ان کی سوچ ہی پھسل گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ غزوہ احد میں صحابہ کرام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ ا س کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہاکہ سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر ملک میں سینماؤں کی تعداد میں اضافے کی بات کرتا ہے ۔حکمران بتائیں کہ قوم کو تعلیم کی ضرورت ہے یا سینماؤں کی ؟ سینماؤں کی تعداد میں اضافہ کر کے عوام کے کون سے مسائل حل ہوں گے۔حکمرانوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے بھی کچھ نہیں
کیا وعدہ تو کیا تھا مگر عملا عوام کو بے وقوف بنایا ۔
سراج الحق نے کہاکہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت سے دوستی نہیں ہوسکتی ،سودی معیشت کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔موجودہ بجٹ میں بھی سود کو ادائیگی کے لیے اربوں روپے رکھے گئے ہیں ،سودی معیشت سے نجات کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔عوام کے مسائل صرف جماعت اسلامی اور اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام ہی سے حل ہوسکتے ہیں۔ آج کا مارچ آخری مارچ نہیں ،تحریک کا نقطہ آغاز ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا نیب کی قیادت یا حکومت سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ، ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے گھروں سے نکلے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ
حکومت نے 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن 50لاکھ ٹینٹ بھی نہیں دیے۔
ایم کیو ایم کو تو روزگار مل گیا ہے ان کے دو وزیر کابینہ میں ہے اور ایک اور وزیر کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اس کو وفاقی کابینہ میں کراچی کے مسائل کے لیے با ت کرنی چاہیے تھی مگر وہ تو صرف اپنے لیے مزید وزارت کی بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں K4کا مسئلہ برسوں سے حل نہیں ہورہا ہے اور عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔گرین لائن کا منصوبہ ادھورا پڑا ہے ۔بلدیاتی حکومت کے جانے کا وقت قریب ہے اور اب کراچی کو پانی دو کی باتیں کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی نااہلی و نالائقی نے عوام کے مسائل بڑھادیے ہیں۔گیسوں کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ کیا گیا ہے ،ان حکمرانوں کی نالائقی کی قیمت عوام اور مزدور کیوں ادا کریں ۔موجودہ حکومت نے پہلے تو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتی رہی لیکن پھر نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے اور اس کی مرضی سے بجٹ بنایا گیا ۔ڈیزل پیٹرول تو باہر سے آتا ہے لیکن حکمران بتائیں کہ انہوں نے چینی ، چاول سمیت دیگر اشیاء کیوں مہنگا کیا اسی لیے کہ یہ شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے۔سپریم کورٹ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے ۔ ہم جو چیز یں یہاں سے باہر بھیجتے تھے ان پر بھی ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔قبل ازیں سینیٹر سراج الحق نے مارچ کے آغاز پر اپنے افتتاحی خطاب میں عظیم الشان مارچ کے انعقاد پر اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا۔

حافظ نعیم الرحمن سمیت پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی اورکہا کہ آج کا مارچ اور یہ زبردست احتجاجی کارواں ناصرف اہل کراچی بلکہ کراچی سے
چترال تک ملک کے 22کروڑ عوام کے لیے ہے آج ملک اور قوم ایک دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں شدید مایوسی اور مشکلات سے دوچار ہیں ۔روشنی کی کوئی کرن اور امید نظر نہیں آتی ،مایوسی کی اس گھٹا ٹوپ رات میں جماعت اسلامی امید کا روشن چراغ ہے ،
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ایک سال ہوگیا ہے ، اس نے جو وعدے دعوے کیے تھے اور جو سبز باغ دکھائے تھے ، نوجوانوں کو روزگار دینے اور بے گھر پاکستانیوں کو 50لاکھ نئے مکانات دینے کا وعدہ کیا تھا، اس حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہر پاکستان کو پینے کا صاف پانی اور مظلوموں کو انصاف دیا جائے گا ،پیٹرول 48روپے لیٹر اور ڈولر کو 65روپے پر فکس کیا جائے گا لیکن افسوس کہ یہ حکومت عوام کو ئی ریلیف نہ دے سکی اور نہ ہی اپنا کوئی بھی وعدہ پورا کرسکی ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے ، ملک کی نظریاتی و معاشی شہ رگ ہے لیکن یہاں کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔،پانی سے محروم عوام ٹینکر سے مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں ،آج پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے بھی پریشان اور شرمندہ ہے ، عام آدمی ، مزدور ،کسان اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے کے بعدپہلے 100دن کی مہلت مانگی اور پھر چھے ماہ انتظار کرنے کا کہا اور اب ایک سال ہوگیا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارا پہلا دورِ حکومت ہے ، ہم اگلے دورِحکومت میں حالات بہتر کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ کراچی میں جماعت اسلامی کے عوامی مارچ کے اعلان کے بعد کچھ لوگوں نے پانی دو کے بینر شہر میں لگائے ،عوام ان سے پوچھتے ہیں کہ شہری حکومت ان کی ہے اور وہ وفاقی حکومت کا بھی حصہ ہیں ، ان کو یہ بینر لگاتے ہوئے شرم نہیں آئی ؟کراچی کے عوام کہاں جائیں ؟کراچی کے عوام کے مسائل کون حل کرے گا ؟بلدیاتی حکومت کہتی ہے کہ اس کے پاس اختیار نہیں صوبائی حکومت مسائل حل کرے گی ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت کہتی ہےکہ بلدیاتی حکومت کے پاس جو اختیارات اور وسائل ہے وہ مسائل حل کرے گی دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگارہے ہیں اور ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں ، مسئلہ کون حل کرے گا ،کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران جھوٹے ہیں انہوں نے عوام سے وعدے بھی جھوٹے کیے ، عوام کو کچھ نہیں دیا ،جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد جاری رکھے گی ۔














