
راولپنڈی( ویب ڈیسک،فوٹو:فائل ) وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا ہےکہ جنہوں نے ملک کو کنگال کیا اور
لوگوں پرمشکلات ڈالیں ان سے جواب لوں گا،یہ جس بادشاہ سے سفارش کرائیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور این آر او کی کوئی چھوٹ نہیں دوں گا۔
راولپنڈی میں نئی ٹرین سرسید ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید جس طرح ریلوے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں، سارا پاکستان ان کو دعائیں دے گا۔ ریلوے عام آدمی کا سفر ہے، مہذب معاشروں پر ریلوے پر زور دیا جاتا ہے، ریلوے سب سے آسان اور بہترین طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے میں 36 ارب کا خسارہ تھا، تیل کی قیمت اوپر جانے اورروپے کی قدر کم ہونے کے باوجود 36 ارب سے خسارہ 32 ارب پر لے آئے، ابھی صرف 10 ماہ ہوئے ہیں، ملک کا ایک ایک ادارہ ریکارڈ خساہ کررہا تھا، اس خسارے کی وجہ کیا تھی، اس کے پیچھے کرپشن تھی، ایک ملک وسائل کی کمی سے غریب نہیں ہوتا بلکہ کرپشن کی وجہ سے ہوتا ہے، ہندوستان میں ریل چل رہی ہے اور اربوں کا نفع ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ خسارے میں ہے۔
وزیراعظم نےمزید کہا کہ کرپشن کا مقصد پبلک کاپیسہ چوری ہونا ہے، یہ غریب کو غریب اور چھوٹے طبقے کو امیر کرتی ہے، ملک ایک مشکل سے گزررہا ہے اس کے پیچھے کیا ہے، 10 سال میں 2 حکومتیں قرض کو 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب پر لے گئیں، یہ کیسے ممکن ہے، کوئی بتائے کہ 60 سالہ تاریخ میں قرضہ 6 ہزار ارب ہو اور 10 سال میں 30 ہزار ارب پر لے گئے‘۔
عمران خان نے کہا کہ ’دونوں گھر شریفوں اور زرداری کی دولت دیکھیں، 10 سال میں یہ کتنے امیر تھے، پہلے ہی پیسہ چوری کیا تھا، 10 سالوں میں دونوں خاندانوں میں بچوں کے بچے بھی اربوں پتی بن گئے اور قوم مقروض ہوگئی، یہ شور کرتے ہیں کہ عمران خان انتقامی کارروائی کررہا ہے، انتقامی کارروائی تو میرے خلاف ہوئی تھی، جب میں نے پاناما کی بات کی تو میرے اوپر سپریم کورٹ میں 2 کیسز ہوئے اور 32 مقدمات بنائے، 6 کیس الیکشن کمیشن میں کیے، یہ صرف اس لیے کہ میں پاناما کے اربوں روپے کا جواب مانگ رہا تھا، اس کو انتقامی کاروائی کہتے ہیں۔زرداری اور نوازشریف کے کیسز پرانے ہیں، ہم نےشروع نہیں کیے۔
انہوں نے مجھ پر کیس کیے، جمہوریت میں لیڈر جواب دہ ہوتا ہے، میں لندن نہیں بھاگ گیا تھا، میں نے 10 ماہ جواب دیا، سپریم کورٹ میں ایک ایک چیز کا جواب دیا جس سے میں صادق اور امین ثابت ہوا، میں نے رونا دھونا نہیں کیا، ان کی طرح جلسے جلوس نہیں کیے، عدالت میں اپنا جواب دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان سے جواب لوں گا، جتنا مرضی شور کرنا ہے جو مرضی کریں، میں نے قوم سے وعدہ کیا تھا، جنہوں نے ملک کو کنگال کیا اور لوگوں پرمشکلات ڈالیں ان سے جواب لوں گا، یہ جو مرضی کریں مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جس بادشاہ سے سفارش کرائیں ان کے گھٹنے دبائیں، میں نے جواب لینا ہے، کوئی این آر او کی چھوٹ نہیں دوں گا۔














