
کراچی(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی بہتری اور ترقی کے مشن پر عمل پیرا ہیں،
پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالیں گے، سرمایہ کاری کے فروغ سے ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی، تمام طبقات ٹیکس نیٹ میں شامل ہو کر اپنا کردار ادا کریں، طاقتور کا احتساب ہوگا تو ملک ہمیشہ کیلئےبدل جائے گا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےویراعظم نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے والے اپنے بچاﺅ کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا، این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہو گا، کرپشن ختم ہو گی تو ملک ترقی کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پروگرام ملا ہے جبکہ ملک سے ہونے والی منی لانڈرنگ کا تخمینہ 10 سے 12 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جب تک ملک کو لوٹنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کریں گے اس وقت تک ملک سے کرپشن ختم نہیں ہو گی اور ملک آگے نہیں بڑھے گا،
عمران خان نے کہا کہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے پانچ سال میں وزیر کی سطح کے ساڑھے 400لوگوں کو جیل میں ڈالا کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ملک کے آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 60 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا جو 10 سال میں 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھا جائے لیکن ایسا کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے پہلے دن سے ہی بلیک میلنگ شروع کی اور افراتفری مچائی ہوئی ہے کہ ملک نہیں چلے گا، یہ مجھ سے این آر او کے تین الفاظ سننا چاہتے ہیں، اگر این آر او دےدیا جائے تو انہیں سب ٹھیک نظر آنا شروع ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو گا۔
وزیراعظم نے کہاکہ ایف بی آر میں اصلاحات کریں گے اور امید ہے کہ ساڑھے5ہزار ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کر لیں گے۔ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتے ان کےلئے پیغام ہے اگر سب ٹیکس نہیں دیں گے تو تھوڑے لوگوں پر بوجھ پڑے گا، دوسری صورت میں افراط زر بڑھے گا جس سے ہر آدمی متاثر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سب لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں اور اپنے حصہ کا کردار ادا کریں، وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ تبدیل کریں، اگر سب ٹیکس دیں تو ہم 8 ہزار ارب روپے بھی جمع کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کہا کہ آمدن بڑھانے، اخراجات کم کرنے، غیر ضروری درآمدات اور تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے اقدامات کئے ہیں جبکہ قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے














