
لاہور (ویب ڈیسک )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران ہر فیصلے سے پہلے آئی ایم
ایف سے پوچھتے ہیں کہ بتا تیری رضا کیا ہے ۔حکمران خود کوئی قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں اور اگربغیر پوچھے اٹھالیں تو آئی ایم ایف اگلے ہی روز اپنا فیصلہ مسلط کردیتی ہے۔
منصورہ میں جے آئی کسان کی سپریم کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت بدترین معاشی زبوں حالی اور بے یقینی کا شکار ہے۔کراچی سے چترال تک مرجھائے ہوئے پریشان چہرے ہیں۔خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ،جبکہ حکومت کہتی ہے کہ جلد ہی مزید مہنگائی ہوگی۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جب تک زراعت اور صنعت ترقی نہیں کرے گی ملکی ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ۔اس موقع پر صدر جے آئی کسان چوہدری نثار احمد ایڈووکیٹ اور سیکرٹری جنرل چوہدری شوکت علی چدھڑ بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کسانوں سمیت ملک کی 20کروڑ آبادی کو بھوک ،غربت اور جہالت کا سامنا ہے ۔ایک کروڑ سے زیادہ لوگ ڈپریشن کی وجہ سے شوگر کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔دنیا کے گنا پیدا کرنے والے آٹھویں بڑے ملک کے لوگ 75روپے کلو چینی خریدنے پر مجبور ہیں اور چاول پیدا کرنے والے پانچویں بڑے ملک کے عوام کو 123 روپے کلو چاول ملتے ہیں
انہوں نے کہا کہ ۔آٹے کی قیمت میں ہونے والے اضافہ نے لوگوں کو صبح و شام ایک روٹی پر گزارہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہرروز عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہی ہے ۔جو لوگ اس گھمبیر صورتحال کے ذمہ دارہیں انہوں نے موجودہ و سابقہ حکمران پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔استحصالی نظام مسلط کرنے والے ظالم جاگیر دار اور کرپٹ سرمایہ دار حکومتی جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں۔
۔موجودہ حکومت بھی سابقہ حکمران پارٹیوں اور مشرف کے لوگوں کا مجموعہ ہ ۔حکومت ایسے لوگوں کا مسافر خانہ ہے جن کے کردار ،نظریات اور کلچر میں کوئی فرق نہیں اور وہ سب ایک ہی طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔














