نواشریف کو بےگناہ قرار دیکررہا کیا جائے،مریم نواز

لاہور(ویب ڈیسک )مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازنے کہا ہے کہ نوازرشریف کا ری ٹرائل کس بات کا کرنا ہے

،مقدمہ خارج کیا جائے ،مجھے ری ٹرائل منظور نہیں۔عدلیہ کو ادب کے ساتھ مودبانہ گزارش ہے ثبوت آگئے ہیں نوازشریف کو بے گناہ قراردیکر انصاف دیا جائے اور رہا کیا جائے ۔کیا ،

مسلم لیگ (ن)ماڈل ٹائون سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۔اس موقع پر سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی،مسلم لیگ (ن)کے رہنما پرویز رشید، نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان، عظمی بخاری موجود تھے۔

گارنٹی ہے کہ ری ٹرائل والے جج کو بھی بلیک میل نہیں کیا جائے گا۔سرکاری بورڈ نے دوبارہ زور دیا کہ نواز شریف کے مزید ٹیسٹ ان کی مرضی کے اسپتال میں کروائے جائیں،اگر میں نے لڑائی کرنا ہوتی تو میں باقی ویڈیوز بھی سامنے لے آتی۔ان ویڈیوز میں حساس اور موجودہ عہدوں پر موجود لوگوں کے نام ہیں۔میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ویڈیوز سامنے نہیں لائی۔میں چاہتی ہوں کہ اﷲ نہ کرے وہ وقت نہ آئے کہ مجھے وہ ویڈیوز بھی سامنے لانی پڑیں۔اگر میں نے لڑائی کرنی ہوتی تو دوسری ویڈیو لے آتی یہ انتہائی حساس معاملہ ہے

 مریم نواز نے کہا کہ آخری جمعرات کو نوازشریف سے ملاقات میں جیل کے سرکاری ڈاکٹر آئے تو رپورٹ دکھا کر پریشان لگ رہے تھے،ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپ (نوازشریف)کی بلڈشوگرکئی دنوں سے زیادہ آئی ہے نوازشریف نے کہا کہ میر ی تو بلڈشوگر کئی دنوں سے چیک ہی نہیں ہوئی ،پھردیکھا تو پتاچلتا ہے کہ تین جولائی کی رپورٹ لکھی جس میں درج تھاکہ نوازشریف کی طبیعت خراب ہے اور فورا ہسپتال منتقل کیاجائے

مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کا آئینی قانونی حق ہے کہ بلڈ ٹیسٹ سمیت دیگر رپورٹس دکھانی چاہیے تھی ۔میں نے بھی کہا کہ تین جولائی کی رپورٹ 18جولائی کو دکھا رہے ہیں ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ،بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ میں کیا آیا ،مجھے نہیں پتا چلا۔نوازشریف کو بے گناہ قیدی کہنا چاہیے ،میں نے بھی کہا میاں صاحب کو انجائنا ہورہا ہے ،گردے متاثر ہورہے ہیں مجھے اطلاع کرنی چاہیے ،نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو آگاہ کرنا چاہیے تھا ۔

مریم نواز نے کہا کہ آئی جیل خانہ جات کو خط لکھا ڈاکٹر عدنان نے بھی خط لکھا کہ رپورٹ کی کاپی جاری کی جائے کسی نے جواب نہیں دیا۔سرکاری بورڈ تشکیل دیا گیا جس کنوینر پروفیسر ثاقب شفیع تھے بورڈ میں ڈاکٹر شفیق چیمہ ،ڈاکٹرسمیعہ امداد،ڈاکٹراحسن نعمان اور امیرالدین شامل تھے۔ بورڈ نے نواز شریف کا طبی معائنہ کر کے سفارشات پیش کیں۔،بورڈ نے سفارش کی ان کے کمرے کا درجہ حرارت مناسب رکھا جائے،اے سی میں رکھا جائے ،نواز شریف کو انجائنا کی شکایت ہے،نواز شریف کا بلڈ پریشر بھی زیادہ رہتا ہے ۔بورڈ نے زیابیطس کے لئے نئی ادویات بھی شامل کی ہیں۔نوازشریف کا علاج بیرون ملک ہوا اس لئے ڈاکٹر عدنان دوائی تجویر کرنے سے پہلے نوازشریف کے بیرون ملک میں معالج سے مشورہ کرتے پھر دوائی لکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے سامنے سوال رکھتی ہوں کہ 3 بار کا وزیر اعظم اس طرح کے سلوک کا مستحق ہے،سلیکٹڈ وزیر اعظم کی حکومت ہے ۔مجھے کوئی عار نہیں یہ کہنے میں کہ جن ہاتھوں میں میاں صاحب ہیں وہ دشمن کے ہاتھوں میں ہیں۔میں اپنے وکلا سے مشورہ کر رہی ہوں کہ اب عدالت سے رجوع کیا جائے۔مجھے نہیں علم کہ نوازشریف کو جیل میں کیا کھلایا جا رہا ہے۔بین الاقوامی آرگنائزیشنز تک بھی میں یہ بات پہنچانے کی کوشش کروں گی۔

 ۔ ۔سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا کہ عدالت میں بھی کہا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگا ہوا ہے،عمران خان نے میرے ساتھ جو باتیں کی تھیں، میں نے اس سے اختلاف کیا تھا۔میں کہتا ہوں کہ عمران خان میری بات مان لیتے تو آج سلیکٹڈ کی گالی نہ سن رہے ہوتے وہ الیکٹیڈ وزیراعظم نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔عمران خان نے امریکہ میں دعائیں ہی مانگنا تھیں تو شاہ محمود قریشی کے ساتھ مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔