احتساب کے نام پر بدترین انتقام چل رہا ہے،شہباز شریف

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرمیاں شہبازشریف نےکہا ہے کہ گزشتہ سال آج کے دن تاریخ کی

سب سے بدترین دھاندلی ہوئی تھی۔ بڑی دھاندلی کرکے ہمارا ووٹ چرایا گیا تھا، عمران نیازی سلیکٹڈ، ریجٹکٹڈ ،بہروپیااور ضمیرکو بیچنے والا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کی کال پرعام انتخابات 2018ءمیں ہونیوالی مبینہ دھاندلی کیخلاف یوم سیاہ کے سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چترال سے لے کر کراچی تک انتخابات میں ڈیوٹی کرنے والوں کو باہر نکال کر گنتی کی گئی۔

انہوں نےکہا کہ ایک سال پہلے تاریخ کی سب سے ۔چترال سے کراچی تک الیکشن میں لیڈرزباہر کردئیے گئے۔ یہاں کرسیاں نہیں رکھنے دیںان کے زمانے میں کرسیاں خالی ہوتی تھیں، آج میدان بھرا ہوا ہے عمران خان نیازی سن لو۔۔ یہ عوام کا سمندر تمہیں خش وخاک کی طرح بہا لے جائے

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی زیر عتاب ہے، ان کے اکابرین جیلوں میں ہیں احتساب کے نام پر بدترین انتقام چل رہا ہے۔ نوازشریف آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ نوازشریف غریب، مزدور، کسان، تاجر کے ساتھ کھڑا ہے، آپ کے ساتھ کھڑے ہیں آپ کے ساتھ مریں گے۔ نوازشریف کا قصور یہ ہے کہ نوازشریف نے گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی دیکر اندھیرے دور کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف نے گوادر پورٹ بنائی۔ نوازشریف نے سڑکیں بنائیں۔ اورنج لائن بنائی جس کو پی ٹی آئی چلنے نہیں دے رہی، لیکن یہ اورنج لائن چلے گی اس کو کوئی بند نہیں کراسکتا۔ یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں نیب سے ڈرادھمکا کر چپ کرادیں گے۔ یہ کاروبار بند کرکے ہماری زبانوں کو تالے لگادیں گے۔ یہ نوازشریف، حمزہ شہبازشریف مجھے اورمیرے خاندان کو جیل بھجواکر ہمیں خاموش کردیں گے لیکن میں جان دیدﺅں گا لیکن عمران نیازی میں تمہارا مقابلہ کروں گا۔ عمران خان تمہاری عادت ہے کہ کئی سال سے تم آگے آگے بھاگتے ہو میں پیچھے پیچھے بھاگتا ہوں تم کہاں تک بھاگو گے۔ اب وقت آنیوالا ہے بائیس کروڑ عوام کا ہاتھ اورتمہارا گریبان ہوگا تمہیں عوام پر ایک ایک ظلم کا حساب دینا ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چاروں صوبوں کے دارالحکومتوں میں ہم نے اکٹھے ہوکر یہ پیغام دیدیا ہےکہ نیازی یا تم نہیں یا ہم نہیں۔ انشاءاللہ تم نہیں۔ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم حکومت گرانا چاہتے ہیں ہم آج کے دن اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہم پاکستانی قوم کو اس بات پر اکٹھا کریں کہ ایک سال پہلے اس ملک کےعوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ماراگیا تھا اگر ہم نے حکومت گرانا ہوتی تو مولانا فضل الرحمن نے سب سے کہا تھا کہ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کردیں اگر ہم نہ جاتے تو نہ حکومت بنتی ۔

 جلسے کے اختتام پر قمر زمان کائرہ کے بیٹے اسامہ کائرہ اور بیگم کلثوم نواز کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔