
کراچی (رنگ نوڈاٹ کام ) پاک سرزمین پارٹی کےچیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 12 سال میں کےای ایس سی
کا نام تبدیل کر کے کراچی الیکٹرک رکھنے کےعلاوہ اس میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے اوراب اسے اپنا نام قاتل الیکٹرک رکھ لینا چاہیے۔
بزنس فورم کےذمے داران سےگفتگو کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ شہر میں صرف چند گھنٹوں کی بارش میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 21 لوگ جں بحق ہو گئےجن میں چارمعصوم بچے بھی شامل ہیں ۔وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کوئی بھی دل رکھنےوالا شخص ان واقعات پردہل جائےلیکن حکمرانوں کےکانوں پرجوں تک نہیں رینگی۔ 12 سال پہلے بھی لوگ مراکرتےتھے اور آج بھی لوگ کرنٹ لگنے سےمررہے ہیں۔ بارشوں میں صرف کے الیکٹرک کی بے حس انتظامیہ ہی نہیں بلکہ ملک کو چلانے والی اشرافیہ بےنقاب ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام اب حکمرانوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔کراچی کی عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے،یہاں لوگ مر رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ کے الیکٹرک والوں کو مہنگی ترین بجلی دینےکے باوجود عوام کی جان و مال کا تحفظ تک یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔عوام کا مالی تحفظ تو درکنار 12 سال گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک نے کراچی سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ تک نہیں کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ حکمرانوں کو کراچی سے ٹیکسز تو چاہئے لیکن اس کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے کی ذمے داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ ٹیکس کے بدلے عوام کو سہولتیں تو دور بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سارا ملبہ صوبائی حکومت پر جبکہ صوبائی حکومت شہری انتظامیہ پر ڈالنا چاہتی ہے جو اختیارات کا رونا روتے رہتے ہیں جبکہ پی ایس پی موجودہ اختیار کے ساتھ بھی کراچی کو پہلے کی طرح بحال کر سکتی ہے۔ ان حالات میں عوام کس سے سوال کریں ۔
مصطفی کال نے کہا کہ موجودہ حکمران ان بے گناہ لوگوں کے گھروں تک بھی نہیں گئے بلکہ مذمتی بیانات دے کر اپنی ذمے داریاں پوری کر رہے ہیں۔انہیں قبر اور آخرت تک کا خوف نہیں ہے۔ پاک سرزمین پارٹی ان سب مظالم پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ ہر ممکن سطح پر کراچی والوں کی آواز بلند کرے گی۔














