
لاہور (ویب ڈیسک ) امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ25اگست کو پشاور میں حکومت کےخلاف
عوامی مارچ کریں گے اور یہ مارچ حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگاجس میں ہم اگلا لائحہ عمل دیں گے۔ اگر جھوٹ بولنے کا کوئی ورلڈ کپ ہوتا تو عمران خان ورلڈ چمپئن ہوتے ۔
اسلام آباد میں میاں محمد اسلم ،نائب امیرجماعت اسلامی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہر روز قوم سے جھوٹے وعدے کرتی ہے لیکن اپنے منشور ، وعدوں اور نعروں پر عمل نہیں کرتی جس کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری کابینہ نااہل ہے جو جنرل مشرف اور پیپلزپارٹی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔پارلیمنٹ پر قوم کا پیسہ خرچ ہوتاہے مگر ایک سال میں عوامی مفاد میں پی ٹی آئی حکومت نے کو ئی قانون سازی نہیں دی۔ نئے آرمی چیف کا تقرر قانون اور میرٹ پرہونا چاہیے۔
سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے مگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا ۔پی ٹی آئی نے عوام کو سبز باغ دکھائے تھے۔ جس طرح وہ تیزی کے ساتھ مقبول ہوئی تھی اسی تیزی کے ساتھ غیر مقبول ہوگئی ہے ۔اس کی تمام پالیسیاں ناکام ثابت ہورہی ہیں جن سے 22کڑور عوام پریشان ہیں
انہوں نے کہا کہ آج عوام کے ساتھ صحافیوں کے چہرے بھی مرجھائے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی اظہار آزادی پر بھی حکومت نے قدغنیں لگا دی ہیں۔پی ٹی آئی نے جس منشور پر ووٹ لیا اور جو منشورقوم کے سامنے پیش کیا ، اس سے وہ پیچھے ہٹ گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ٹرمپ سے جھوٹ کا مقابلہ جیت سکتے ہیں کیونکہ وہ بڑے لیڈر کی یہ نشانی بتاتے ہیں کہ جو سب سے زیادہ یوٹرن لے وہی بڑا لیڈر ہے۔ امیر جماعت نے کہاکہ وزیراعظم اعلان کرتے ہیں کہ گیس کے ذخائر دریافت ہوئے مگر اگلے دن پتہ چلا کہ قوم کے 14ارب روپے ڈوب گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کاپہلا سال عوام کے لیے بہت بھاری ثابت ہوا ہے۔ عمران خان نے خود اعلان کیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض خود کشی ہے مگر 6ارب ڈالر قرض لینے کو کارنامہ بتارہے ہیں اگر یہ کارنامہ ہے تو سابقہ حکمرانوں نے بھی یہ کارنامہ انجام دیا تھا، اب موجودہ حکومت بتائے کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں میں کیا فرق ہے؟
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نئے الیکشن کا مطالبہ قبل از و قت ہے ۔ ہم حکومت کو سیاسی شہید نہیں بنانا چاہتے اس لیے پشاور میں مہنگائی کے خلاف 25 اگست کو زبردست سیاسی اور عوامی مارچ کریں گے جو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہوگا ۔














