
کراچی (رنگ نوڈاٹ کام)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں حالیہ بارش میں
5بچوں سمیت کرنٹ لگنے سے 22افراد کی ہلاکت اور کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت ولاپرواہی کے خلاف کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے جمعہ 2اگست کو 2بجے دن ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
ادارہ نورحق میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی سربراہ عارف مسعود نقوی، اکرم سہگل اور مونس علوی کے خلاف کورٹ کے ذریعے سے اموات کی ایف آر درج کرائیں گے،جماعت اسلامی سینیٹ اور سندھ اسمبلی میں بھی کے الیکٹرک کے خلاف آواز اٹھائے گی، افسوس کا مقام ہے کہ وزیر اعظم نے شہر میں 22افراد کی ہلاکتوں پر کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی ان کے ورثاء اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کی۔کے الیکٹرک کے حوالے سے وفاقی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے، جاں بحق ہونے والے ورثاء کو فی کس ایک کروڑ روپے اداکرے اور کے الیکٹرک کو فوری طور پر قومی تحویل میں لینے کا اعلان کرے۔
پریس کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید نے بھی خطاب کیا۔سکریٹری کراچی عبد الوہاب، نائب امیر کراچی راجا عارف سلطان، ڈپٹی سکریٹری کراچی یونس بارائی، امیر جماعت اسلامی ضلع غربی محمد اسحاق خان،بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے نگراں عمران شاہداور دیگر بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ شہرمیں نیپرا حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے اور ان کی ملی بھگت سے عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔نیپرا کی جانب سے 22اموات پر اظہار تشویش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مسئلے کے حل اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ضروری ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ شرم کا مقام ہے کہ حالیہ بارش سے کے الیکٹرک کی غفلت کے باعث شہر میں ہلاکتیں ہورہی تھی اور گورنر سندھ اور میئر کراچی کیفے پیالہ میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہاکہ یہ مسئلہ کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام اور 26لاکھ صارفین کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم کو اب عارف نقوی کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے رکھنا چاہیے اور بتانا چاہییے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں کے الیکٹرک کے ساتھ یا کراچی کے عوام کے ساتھ ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کے الیکٹرک 14سال کے عرصے میں کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بد نما داغ بن گیا ہے، طرح طرح کے چارجز کے نام پر عوام کو لوٹا جارہا ہے، بارش کے پہلے قطرے سے ہی شہرمیں 600فیڈر ٹرپ ہوجاتے ہیں اکثر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل کردی جاتی ہے، بارش کو اب دو دن گزر چکے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ 50فیصد علاقے ایسے ہیں جہاں اب تک بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی گئی جس کی وجہ سے عوام شدید ذہنی وجسمانی اذیت کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ طرح طرح کے چارجز لگا کر عوام کو لوٹا جارہا ہے اور اب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ کے الیکٹرک نے پیک آورزکے حساب سے بھی چارجز لگانے کا فیصلہ کیا ہے،ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں،ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کی جانب سے میٹر رینٹ، کلاء بیک،فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر مد میں عوام سے پیسے وصول کرنے کے خلاف زبردست تحریک چلائی تھی جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا اور کے الیکٹرک مجبوہوئی کہ عوام کو میٹر رینٹ اور بینک چارجز کی رقم قسطوں کی صورت میں واپس کرے۔ اب ہم مزید مدات میں لوٹے گئے ناجائز پیسے بھی واپس دلوائیں گے
۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں پی ٹی آئی ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف باتیں کیا کرتی تھی لیکن اب صرف سیاسی مفاد کی خاطر ایم کیو ایم کے کالے کرتوتوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے،دوسری جانب سندھ حکومت نے کراچی کے اہم اداروں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ذریعے قبضہ کیا ہوا ہے اور چین سے کیے ہوئے معاہدے میں 4ارب روپے منافع کمانے کے بعد معاہدے کو بے بنیاد قراردے دیا گیا، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی کو صرف لوٹنے کا ذریعہ بنا یا ہوا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اس وقت نان ایشوز پر سیاست کی جارہی ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔














