
اسلام آباد(رنگ نو ڈاٹ کام ) متحدہ اپوزیشن کو جمعرات کے دن اس وقت انتہائی غیرمتوقع طور پر شدید جھٹکا لگا جب
اسے اپنے دعووں اور یقین کے برخلاف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کیلئے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد جب ایوان بالا میں نتائج کا اعلان کیا گیا تو تحریک عدم اعتماد کے اصل محرک مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ شہباز شریف اوربلاول زرداری سمیت اپوزیشن کے رہنما اور ارکان سینیٹ ہکا بکا رہ گئے۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے بعد پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف نے نتیجے کا اعلان کیا۔تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لئے کم ازکم 53سینیٹرز کے ووٹ درکار تھے۔تاہم انتہائی غیرمتوقع طور پر تحریک کے حق میں صرف 50 ووٹ ہی پڑسکے۔ حالآنکہ مسلم لیگ ن کے راجہ ظفرالحق نے جب اجلاس کے آغاز میں تحریک پیش کی تھی تو ایوان بالا میں موجود متحدہ اپوزیشن کے64سینیٹرز نے کھڑے ہوکر اس کی تائید کی تھی۔ مطلوبہ کم ازکم 53 ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے یہ تحریک مسترد کردی گئی ۔ حکومت کے حمایت یافتہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی حمایت اورتحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 45 ووٹ ڈالے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایوان میں حکومت اور اس کے اتحادی ارکان کی مجموعی تعداد صرف 36 ہے۔یعنی حکومت اپوزیشن کے 9سینیٹرز کے ووٹ بھی لے اڑی ۔ جبکہ ڈالے گئے 5 ووٹ مسترد بھی ہوئے۔
اجلاس کے دوران 100 سینیٹرز ایوان میں موجود تھے جنہوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری تنویر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ایوان میں حاضری یقینی نہ بناسکے۔دوسری جانب جماعت اسلامی کی طرف سے ووٹنگ کے عمل پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کے 2 سینیٹرز بھی ایوان میں نہیں آئے۔














