
کراچی (ویب ڈیسک ) چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال نے کہا کہ وسیم اختر کانام ای سی ایل میں
ڈالا جائے، کراچی کی بربادی کا حساب اس سے لیا جائے، بہت پیسے نکلیں گے۔ میں اب وزیر اعظم سے کوئی درخواست نہیں کرتا، بھلے اب مجھے غیر آئینی کہیں، یا غیر قانونی کہیں، مجھے اپنے لوگوں کو بچانا ہے۔
وہ پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر پی ایس پی صدر انیس قائم خانی،دیگر زمہ داران بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ میں سیدھا پاکستان کے سب سے بااثر ترین شخصیت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آواز دیتا ہوں جو اکنامکس کمیٹی کے ممبر بھی ہیں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ کور وزٹس کرتے ہیں اسی طرح کراچی کو بھی وزٹ کریں ، آپ خدارا آئیں، آپ سبکو بلائیں گے تو یہ سب آئیں گے اور جام کریں گے، ورنہ کراچی کی تباہی پاکستان ہوگی. تینوں حکومتیں کراچی میں ٹِک ٹْاک پر سیلفیاں بنوا رہی ہے ایک کہتا ہے میرا کام نہیں، دوسرا کہتا ہے میرا نہیں، جب کراچی کسی کا کام نہیں تو کیا کراچی والے اقوام متحدہ جائیں؟ عید کو گزرے دس دن ہوگئے لیکن تمام اوجھڑیاں ابھی تک پڑی ہوئی ہیں.
مصطفیٰ کمال نے سوال کیا کہ کراچی کو وفاق کےسپرد کیوں کریں؟ کیا وہ پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں؟ نہیں کر رہے! کراچی کو کراچی والوں کےحوالے کریں، وفاقی وزیر کیمپئن ابھی کیمپئین تو چلا تو رہے ہیں، اور کیا وفاق چلائے گا کراچی کو. کراچی کو باکردار قیادت کی ضرورت ہے، انکو زمہ داری دیں کراچی ٹھیک ہوجائے گا. اب بھی پاکستان کو کراچی 3000 ارب روپے دے رہاہے کیا اب کراچی کے نالوں کی صفائی کے بھی پیسے دیں؟ پورے پاکستان کی صفائی کراچی کے پیسوں سے ہورہی ہے لیکن کراچی کی صفائی کے لیے وفاق پیسے مانگ رہا ہے۔
مصطفٰی کمال نے چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ایمرجنسی نافذ کی جائے، اسکو اسپیشل اسٹیٹس دیں، میں پھر بتا رہا ہوں کہ کراچی 8000 ارب روپے سے زیادہ جمع کر کہ دے سکتا ہے، لیکن اسکے چلانے والے چورنے کہا کہ پاکستان کا ریونیو انجن کراچی 3000 ارب جمع کرنے والا، سب سے زیادہ نوکریاں دینے والا شہر، لائف لائن، دونوں سی پورٹس کراچی میں ہیں، کراچی پاکستان کو پال رہا ہے، دشمن سرحد پر وار کر رہا ہے، لیکن کراچی میں قوم سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، قوم سے زیادتی کی جارہی ہے، اسکی جتنی مزمت کیجائے وہ کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سال سے توجہ دلا رہا ہوں، وقت و حالات نے ہماری ہر بات کو سچ ثابت کردیا، حل بھی بارہا ہوں ، مگر کرنے والے نہیں کرنا چاہتے ،زرا سی بارش میں 46 لوگ مر جاتے ہیں دو ہفتے گزر جانے کے باوجود گھروں تک سے گٹر کا پانی نہیں نکلا،آلائشوں کا پروجیکٹ شروع ہوگیا، اب تک کبھی سنا تھا کہ شہر میں صفائی کا کوئی پراجیکٹ ہو، میرے زمانے میں سارا سال کام چلتا تھا،
انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی نے آلائشوں کے لیے خندقیں تک نہیں کھودی، سرکاری اسپتالوں میں 8000 بچے بیماریوں سے متاثر ہوکر پہنچے ہیں،شہر مچھر مکھیوں سے بھر گیا، مئیر سے بات کرنا بیکار ہے ،کچرا اٹھانے کا 80÷ اختیار مئیر کے پاس ہے، نالوں کا 100 اختیار اسکے پاس ہے، یہ پاکستانیو کا پیسہ ہے،کلین کراچی میں کچرا نالوں سے نکال کر پارکوں اورسڑکوں پر ڈالا جارہاہے،حدہے کہ کچرے کو لینڈ فل سائٹ پہ لے جانے کی بھی اجازت مانگ رہے ہیں، تینوں حکومتیں مسئلہ حل نہیں کر رہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ کر رہے ہیں، آج جہاں ملکی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے وہاں کراچی کےلوگ اپنے مرتے بچوں کو بچائیں گے یا ملکی یکجہتی کے لیے قوم کیساتھ کھڑے ہوں گے،اس لیے قمر جاوید باجوہ جنگی بنیادوں پہ اس مسئلے کو حل کروائیں ۔














