مودی کو فضائی حدود کی اجازت نہ دینےپرمتفق

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی کابینہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے

کامعاملہ اٹھ گیا۔ وزیراعظم عمران خان سمیت تمام وزراء اس بات پر متفق ہیں کہ نریندر مودی کو فضائی حدود کی اجازت نہ دی جائے تاہم بین الاقوامی قوانین اس حوالے سے آڑے آگئے۔

وزیراعظم کی صدارت میں منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، کشمیر کی تازہ صورتحال سمیت قومی و عوامی معاملات پر 10نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا۔

کابینہ نے اس جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر کی توثیق کرتے ہوئے عالمی برادری سے کہا ہے کہ بھارت کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے، کشمیر پر بین الاقوامی برادری ڈومور کرے، کابینہ نے تمام وزارتوں کو خواجہ سرائوں کی فلاح وبہبود اور انہیں ترقیاتی کاموں میں شامل کرنے کے لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور وزراء کو ہدایت کی گئی ہے کہ جمعہ کو  پبلک مقامات پر عوام کے ساتھ مل کر کشمیریوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں، اس روز 12 سے ساڑھے 12بجے دن تک کشمیر سے اظہار یکجہتی کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوگا، تمام وزارتوں اور اداروں کے عارضی ملازمین کے بارے یکساں اور موثر پالیسی کیلئے کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا ہے، تنہا وزارت توانائی کی سمری واپس کردی گئی ہے ،

وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کے بارے میں عالمی رہنمائوں سے اپنے رابطوں کے بارے میں کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کشمیر پر حکومت پاکستان کی ترجیحات اور اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تصدیق کی کہ کابینہ میں حال ہی میں بھارتی وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کا معاملہ اٹھا پھر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ سمیت سب وزراء کی یہی خواہش تھی کہ نریندر مودی کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ کسی کے بارے میں انفرادی طورپر فضائی حدود کے استعمال سے منع کرنے میں قانونی رکاوٹ ہے۔

میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو گزشتہ روز قوم سے خطاب اورمسئلہ کشمیر سے متعلق اقدامات پر اعتماد میں لیا۔کابینہ نے جمعتہ المبارک کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے وزیراعظم کے فیصلے کی توثیق کی ہے ۔کابینہ ارکان نے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے سے متعلق بھرپور اعتماد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔کشمیر سے متعلق قائم فوکل گروپ میں اپوزیشن ارکان بھی شامل ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ کشمیرپر فوکل گروپ نے سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان مسلم لیگ ن اور سید نوید قمر نے پاکستان پیپلزپارٹی کی نمائندگی کی اوردونوں جماعتوں کے نمائندوں نے کشمیر پر حکومتی ترجیحات کی حمایت کی اور فوکل گروپ میں آگے بڑھنے کے لائحہ عمل کا دونوں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان مشاورتی عمل کا حصہ دار ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کو پاکستان کی طرف سے تحریک میں بدلنے کیلئے کابینہ کے ارکان نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہرسطح پر اس جدوجہد کو پروموٹ اور اجاگر کیا جائے گا اور کشمیریوں کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی کیخلاف موثر لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھیں گے۔ عمران خان کشمیریوں کی آواز بن گئے ہیں اور اسے فیصلہ کن تحریک میں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب دنیا کو ڈومور کرنا ہوگا کیونکہ بھارت کی وجہ سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق عالمی برادری کو ڈومور کرنا ہوگا۔ عمران خان جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کا بھرپور مقدمہ لڑینگے۔جمعتہ المبارک کو 12سے12:30تک پوری قوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کریگی۔قوم مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے بھارت کو موثر پیغام دیگی