بےنامی اثاثوں کیخلاف کارروائی تیز کریں گے،ایف بی آر

کراچی(ویب ڈیسک )چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبرزیدی نے کہا ہے کہ بے نامی اثاثوں کے خلاف

کارروائی مزید تیز کی جائیگی جس کیلئے وزیر اعظم نے بھی احکامات جاری کردیئے ہیں۔

مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان(میپ) کے سیمینار سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ،بیرون ملک غیر ملکی بینکوںمیں پاکستانیوں کے 120ارب ڈالرز پڑے ہوئے ہیں،انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد25لاکھ سے بڑھ گئی ،شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں کی بلکہ اسے ستمبر تک موخر کیا گیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوں،ملکی معاشی صورتحال سے ہمیں ہی نمٹنا ہوگا،ٹیکس اداکرنے والے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں،ہمیں ٹیکس ادا کرنے والوں کو رقم کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنا ہوگی۔

انہوں نےبتایا کہ اس وقت بھی بیرون ملک غیر ملکی بینکوںمیں پاکستانیوں کے 120ارب ڈالرز غیر قانونی طور پر رکھے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں بیرون ملک رقوم کی منتقلی اور حصول کیلئے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کئے گئے۔ہم معیشت کو دستاویزی شکل میں لارہے ہیں،ماضی میں ٹیکسیشن کے عمل کو نظر انداز کیا گیا ،تاہم اچھی بات یہ ہے کہ آج سب ٹیکس ادا کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور اس کی 

اہمیت کو سمجھ رہے ہیں،شبر زیدی نےکہا کہ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے عمل کو مزید آسان کردیا گیا ہے ،50ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اس شرط کو ختم نہیں کیا گیا ہے بلکہ ستمبر تک موخر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دکانداروں کو دو علیحدہ اسکیمیں دی ہیں جن سے استفادہ کرنا ان کا کام ہے ،ٹیکس وصولی کیلئے سینٹرلائزڈ نظام لانے پر غور کررہے ہیں۔