نیب کو ابھی تک پتہ نہیں کہ میرا جرم کیا ہے،شاہد خاقان

اسلام آباد(ویب ڈیسک )ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن

 کی مزید توسیع کر دی گئی۔
نیب ٹیم نے شاہد خاقان عباسی کو ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں پیش کیا ۔ دور ان سماعت نیب نے جج شارخ ارجمند سے شاہد خاقان عباسی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔
پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ ایل این جی ٹرمینل ون سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے ریمانڈ دیاجائے۔ جج نے کہاکہ کتنے دن کا جسمانی ریمانڈ ہو چکا ہے، پراسیکیوٹر نیب نے بتایاکہ 41 روز کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے۔
اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے ایک بار پھر جسمانی ریمانڈ کی مخالفت سے انکار کر دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ 90 روز کا ریمانڈ دے دیں، بتا چکا ہوں کہ کوئی جرم ہی نہیں کیا، انکو ریمانڈ لینے دیں۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو 14 دن کے مزید جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔
عدالت کے باہر صحافی نے سوال کیاکہ جب سے گرفتاریاں ہو رہی ہیں مسلم لیگ ن کا بیانیہ ٹھنڈا پڑھ گیا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے جواب دیاکہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ ٹھنڈا نہیں پڑے گا، ہم اپنے بیانیہ پر قائم ہیں،اگر بیانیہ ٹھنڈا پڑتا تو گرفتاریاں نہ ہوتیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ نیب کو ابھی تک پتہ نہیں کہ میرا جرم کیا ہے۔