
زین صدیقی
پولیس کلچرکوتبدیل کرنےکی ضروت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے،پنجاب پولیس کی ودری جب تبدیل کی گئی تھی تو سوال
پیدا ہواتھا کہ ودردی تبدیل ہوگئی کیا یہ وردی والے بھی تبدیل ہوں ؟ لیکن صورتحال آج بھی وہی ہے۔
صلاح الدین ذہنی معذور تھا،اس نےرحیم یارخان کے ایک بینک کےاے ٹی ایم سے اپنا پھنسا ہوا کارڈ نکالاتھا،رقم نہیں نکالی،یہ کوئی اتنا بڑاجرم نہیں تھا جس کی اس قدرسزادی جاتی ۔
پولیس نے اس پرتشدد کیا اوراس قدر کیا کہ وہ جان ہی سےچلاگیا،اس نے کارڈ نکالتے وقت اس معاشرے کومنہ چڑیا جس میں عدل وانصاف نام کی کوئی چیزنہیں ہے،یہاں صلاح الدین کےوالد نےپولیس ہرالزام عائد کیا ہے کہ پولیس نےان کےبیٹے کوبدترین تشدد کانشانہ بنایا ہے،میڈیا نے بھی یہی بتایا کہ صلاح الدین کےجسم پروحشیانہ تشدد کے نشانات ہیں اوروہ اس کےفوٹیج دکھانے سے قاصر ہیں ۔صلاح الدین کےدائیں بازو پراس کا نام وپتہ بھی درج تھاکیونکہ وہ ذہنی معذور تھا تاکہ گمشدگی کی صورت میں کوئی بھی فرداسےاس کے پتے پرپہنچا سکتا۔
ان تمام شواہد کے باوجو پولیس نے زحمت نہیں کی کہ وہ جان لیتے ہیں،یہ صلاح الدین کون ہے،اس کے اہل خانہ ہی سےرابطہ کرلیتے،پنجاب پولیس سے متعلق یہ تصور عام ہے کہ وہ وحشیانہ طرزعمل میں سب سے آگے ہے۔اسی لیے شریف آدمی تھانے میں جانے سے ڈرتا ہے،اسے اپنی عزت چلی جانےکااحساس ہوتاہے۔
صلاح الدین کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پر کوئی تشدد ہی نہیں ہوا جو حقائق سےمتصادم ہےاس کے والد کے پاس اس کی تشدد کےنشانات والی فوٹیج ہےاوروہ اس کی رپورٹ کی سختی سے تردید کرچکے ہیں ۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صلاح الدین کےوالد سےملاقت کی اورانہیں جوڈیشل کمیشن بنانےاورصلاح الدین کی موت کی شفاف تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے،جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہوم سیکرٹری پنجاب نےرجسٹرارلاہورہائیکورٹ کو خط لکھا ہےجس میں صلاح الدین ہلاکت کے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کی سفارش کی ہےجبکہ رجسڑار لاہورہائی کورٹ کو موصو ل بھی ہوگیا ہے،جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد صلاح الدین کے والدین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنےسےقبل اعلان کیا تھا کہ پولیس میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ملک میں عدل وانصاف کو غریب کوانصاف ملےگا،مگرحکومت کےاس سال میں اس پر کوئی کام نہیں ہوسکا۔لوگ زنجیر عدل ہلارہےہیں،فوری انصاف نہیں مل رہا ۔اس واقعےکے بعد اس امر کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ پولیس میں فوری اصلاحالات لائی جائیں اورپولیس میں موجود کالی بھیڑوں کا قلع قمع کیا جائےاورانہیں قانون کےکٹہرے میں لاکرسخت سزادی جائےتاکہ آئندہ صلاح الدین جیسے واقعات نہ ہوسکیں ۔














