اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود برقرار

کراچی(ویب ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری

پالیسی کا اعلان کر دیا،جبکہ شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے۔

 زری پالیسی کمیٹی نے اپنےپیرکوہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ زری پالیسی کمیٹی کے اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ نتائج زیادہ تر توقع کے مطابق رہے ہیں۔ زری پالیسی کمیٹی کا یہ نقطہ نظر بھی تھا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر زری پالیسی کا موجودہ موقف مہنگائی کو کم کرکے اگلے 24 ماہ کے دوران 5۔7 فیصد کی حدود کے ہدف تک لانے کے لیے مناسب تھا۔ یہ فیصلہ کرنے میں زری پالیسی کمیٹی نے گذشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک کے اہم معاشی حالات، حقیقی ، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زری کیفیات اور مہنگائی پر منظر نامے پر غور کیا۔

زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد پچھلے رجحان کے برخلاف امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تھوڑا مضبوط ہوا ہے۔ دوم، بیرونی محاذ پر امریکی فیڈرل ریزرو نے توقع کے مطابق اپنا پالیسی ریٹ 25 بیسس پوائنٹس کم کردیا ہے جس کے بعد دنیا بھر کے دیگر بڑے مرکزی بینکوں نے بھی پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی۔ اس عمل سے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی کرنسیوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور ممکنہ طور پر رقوم کے بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

حالیہ معاشی سرگرمی کے اظہاریوں سے پچھلی توقعات کے مطابق بتدریج سست رفتاری ظاہر ہوتی ہے اور زری پالیسی کمیٹی مالی سال 20ء میں لگ بھگ 3.5 فیصد کی اوسط نمو کی توقع کرتی رہی۔

زری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگست تا ستمبر 2019ء میں کیے گئے ایس بی پی آئی بی اے صارف اور اعتماد کاروبار سرویز معیشت کے منظر نامے میں تھوڑی بہتری ظاہر کرتے ہیں۔ زراعت اور خدمات کے شعبوں کا منظرنامہ زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس کے وقت سے اب تک زیادہ تر پہلے جیسا رہا: گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں مالی سال 20ء کے دوران شعبہ زراعت کی نمو خاصی بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ خدمات میں بتدریج اعتدال آنے کی توقع ہے

 مختصراً زری پالیسی کمیٹی کی یہی توقع رہی کہ کاروباری احساسات میں بہتری کے ساتھ معاشی سرگرمیاں بتدریج بڑھیں گی۔ بیرونی حالات میں مسلسل نمایاں بہتری دکھائی دی اور مالی سال 19ء میں جاری کھاتے کے خسارےمیں لگ بھگ 32 فیصد (یا جی ڈی پی کے 1.5 فیصد)کی خاطر خواہ کمی ہوئی۔ مالی سال 20ء کے پہلے ماہ کے دوران بھی یہ رجحان برقرار رہا۔خاص طور پر برآمدات میں 11 فیصد کے حوصلہ افزا اضافے اور درآمدات میں 25.8فیصد کمی کی بنا پر جاری کھاتے کا خسارہ جولائی 2019ء میں گھٹ کر 579 ملین ڈالر رہ گیا جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں 2130 ملین ڈالر تھا۔ اس کے ہمراہ پروگرام سے متعلق رقوم کی وصولی اور سعودی تیل کی سہولت کے فعال ہونے سے اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملی جو 6 ستمبر 2019ء کو 8.46 ارب ڈالر تھے۔ یہ آخر جون 2019ء کی سطح سے لگ بھگ 1.18 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔

 گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں مہنگائی بتدریج بڑھی ہے اور سال بسال اور ماہ بماہ دونوں حوالوں سے بلند رہی ہے۔ قوزی (core)مہنگائی بھی حالیہ مہینوں میں بڑھی ہے۔ یہ تبدیلیاں اسٹیٹ بینک کی پچھلی پیش گوئیوں کے مطابق تھیں اور ان سے [شرح مبادلہ میں پچھلی کٹوتی، یوٹیلٹی قیمتوں میں ردّوبدل اور غذائی قیمتوں میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ زری پالیسی کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 20ء میں مہنگائی اوسطاً 11-12 فیصد کے درمیان رہے گی۔ زری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی کے منظرنامے کو درپیش خطرات پر بھی غور کیا۔ ایک طرف اگر مالیاتی رساؤ (slippage) ہوا یا دیگر منفی حالات پیش آئے تو مہنگائی بیس لائن پیش گوئیوں سے اوپر جاسکتی ہے۔