
لندن (ویب ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری مسلسل لاک ڈاون سے معیشت کو ایک ارب ڈالر
سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے‘ سیاحت ہو یا قالین بافی سب متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے مشہور سیبوں کے باغ بھی لاک ڈاو ¿ن کا شکار ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں سکیورٹی لاک ڈاون کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے اور اس کی وجہ سے جہاں عام آدمی کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے وہیں، کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق لاک ڈاو ¿ن سے دو ماہ میں اقتصادی طور پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے معروف تاجر مشتاق چائی کا کہنا ہے کہ دو اگست کو انھیں انتظامیہ کی طرف سے ایک سیکیو رٹی ایڈوائزری ملی جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو یاتری اپنے دورے کو ختم کرکے جتنی جلدی ہوسکتا ہے واپس چلے جائیں،تین دن بعد پانچ اگست کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ منقطع کردیا۔
رپورٹ کے مطابق دو ماہ بعد بھی وادی کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل رابطے ابھی بھی منقطع ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ بھی آسانی سے دستیاب نہیں اور زیادہ تر کاروبار بند ہیں۔ جب سے لاک ڈاون شروع ہوا ہے یہاں سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں، گلیاں ویران ہیں اور وہ سیاحتی کاروبار بند ہیں جن سے تقریباً سات لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے ابھی تک علاقے میں کاروبار کی مد میں 1.4 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور ہزاروں نوکریاں ختم ہوچکی ہیں۔ مشتاق چائی کہتے ہیں کہ وادی کشمیر میں تین ہزار ہوٹل ہیں اور سبھی خالی پڑے ہیں۔
اکثر عملہ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور خوف کی وجہ سے نہیں آسکا، علاقے میں کشیدگی عروج پر ہے اور شہر میں کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، لاک ڈاو ¿ن سے صرف ہوٹل کی صنعت کو ہی نقصان نہیں پہنچا۔














