
اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر
نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاکستان کو درپیش متعدد مسائل کا حل ممکن ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو مزید بااختیار بنانے پر یقین رکھتا ہوں،صوبوں، وزارتوں، نجی شعبے کے اشتراک سے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی حکمت عملی تشکیل دینا وقت کیاہم ضرورت ہے۔
پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے زیر اہتمام سہ روزہ پائیدار ترقیاتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل سیکٹر ریسرچ میں ایس ڈی پی آئی کا کا کام قابل تحسین ہے،ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں ہمیں معاشرے کے مستحق طبقے اور دور دراز علاقوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے ملکی نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گیاورملکی اداروں میں شفافیت اور احتساب کے فروغ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال مستقبل میں اہم ہوگا،ریونیو اکھٹا کرنے میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اہمیت کی حامل ہے،ڈیجیٹل مصنوعات کے زریعے کاروبار خاطر خواہ ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ ہمیں انٹرپنیورشپ کو آگے بڑھانا ہے ضروری نہیں کہ بہت بڑے پیمانے پر بلکہ چھوٹے پیمانے پر بھی سرمایہ کاری کر کے ہم ملکی ترقی میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں،جب ہم گورننس اور احتساب کی بات کرتے ہیں تو اس کے اندر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بہت اہم کردار ہو سکتا ہے ریوینیو اکھٹا کرنے کے لئے بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استعفادہ کیاجا سکتاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم ہے اور اسکو نہ صرف ان لوگوں تک پہنچانا چاہیے جو ایلیٹ کلاس ہو بلکہ نچلے طبقے تک بھی اس کی رسائی ہونی چاہیے،یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اسی لیے سب کو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے کوئی بے خبر نہیں۔
کانفرنس کے دوران مختلف پینلز کی سیشن ہوئے جن میں،معیشت، تجارت،، تعلیم، فضائی آلودگی، پانی کے انتظام، نوجوانوں اور امن کی عمارت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خواتین کا کاروبار، احتساب، سائبر سیکیورٹی سمیت اہم معاملات پر گفتگو اور مباحثوں کی مدد سے شرکا کی رہنمائی کی گئی۔














