
دوحہ (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کے ایل سمٹ درپیش مسائل و مشکلات سے مؤثر
انداز میں نمٹنے اور ان سے مقابلے کے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہو گی، حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور اسلام سے خوف جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے اجتماعی اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے ۔
دوسرے کے ایل سمٹ وزارتی اجلاس(دوحہ، قطر) سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کے ایل سمٹ پر پہلی غیررسمی وزارتی مشاورت 4 تا 5 نومبر کو کوالالمپور میں منعقد ہوئی جو بے حد مفید رہی، اس مشاورت کے نتیجہ میں کے ایل سمٹ کے عمل کو واضح کرنے اور ہر ملک کی توقعات اور تجاویز سے سیکھنے کا موقع ملا۔ کے ایل سمٹ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے تعاون کیلئے موجودہ تجاویز پر ہم کام کر رہے ہیں اور ہم نے تجارت، سیاحت، اسلامی بینکاری، خوراک کے تحفظ، اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبوں میں تعاون کی تجویز بھی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو بڑے بڑے مسائل کا سامنا ہے، حجم اور نوعیت کے اعتبار سے یہ مسائل اتنے بڑے ہیں کہ کسی ایک ملک کیلئے تنہاء ان سے نمٹنا ممکن نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حکمرانی، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور اسلام سے خوف جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے اجتماعی اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ کے ایل سمٹ درپیش مسائل و مشکلات سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور ان سے مقابلے کے راستے کھولنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ کے ایل سمٹ میں شامل ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط استوار ہیں، ہم اس کلیدی پلیٹ فارم کے ذریعے ان تعلقات کو مزید گہرا اور پختہ کرنے کے خواہاں ہیں، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، قطر، ایران اور ترکی اجتماعی طورپر کل جی ڈی پی کا 50 فیصد بنتے ہیں جبکہ قومی گیس کی پیداوار کا 37 فیصد، آبادی کا 37 فیصد اور اسلامی دنیا کا کل رقبہ 18 فیصد بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کے ایل سمٹ کے سات شعبہ جات کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سماجی و سیاسی اور ثقافتی ترقی میں تجربہ، مہارت، علم اور وسائل ہماری مدد کریں گے۔




































