حفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی ای سی سی کا اجلاس

اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مالی سال 2018-19ءکے

دوران 4.05 ارب روپے کے بچ جانے والے فنڈز کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی ہے، یہ منظوری پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے پروگرام (ایس اے پی) کے تحت دی گئی ہے۔

ای سی سی کا اجلاس یہاں کیبنٹ بلاک میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کی تجویز پر بچ جانے والے فنڈز کے دوبارہ استعمال کی منظوری دی ہے، یہ فنڈز اقوام متحدہ کی گائیڈ لائنز کے تحت ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے دوبارہ استعمال کئے جائیں گے۔ ای سی سی نے اکتوبر 2019ءمیں اسلام آباد میں سکیورٹی اخراجات کی مد میں وزارت داخلہ کی تجویز پر 100 ملین روپے کے اخراجات کی بھی منظوری دی ہے تاہم کمیٹی نے عارضی انتظامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس سے کاروباری نقصان اور ملک کا تشخص متاثر ہوا۔

کمیٹی نے اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مستقبل میں سکیورٹی مسائل کے حل کیلئے مستقل حکمت عملی مرتب کی جائے۔ کمیٹی کے اجلاس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن سے صارفین کو سبسڈی کی فراہمی کیلئے وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز پر 6 ارب روپے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر 8 نومبر 2019ءکو اس کی منظوری دی تھی تاکہ صارفین کو آٹا، چینی، گھی، دالیں اور چاول سستے نرخوں پر فراہم کئے جا سکیں۔

 کمیٹی نے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت، پیداوار و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی تاکہ سبسڈی کے عمل کی نگرانی کی جا سکے اور آئندہ اجلاس میں ای سی سی کو اس پر بریفنگ دی جائے