
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) وزیراعظم عمران خان نے قوم کو عالمی وبا کورونا وائرس سے
نہ گھبرانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحیثیت قوم اس کا مقابلہ کریں گے اور ان شااللہ کامیاب ہوں گے ۔ ہمارے پاکستان کے حالات وہ نہیں ہیں جو یورپ میں ہیں کہ شہروں کو بند کریں ، معاشی طور پر حالات مشکل ہیں، کورونا وائرس کے باعث عوامی تکلیف سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ہمیں دنیا کو دیکھنا ہے کہ دنیا میں اس وائرس سے کیسے جنگ کی جارہی ہے، حکومت عوام کو آگاہ کرے گی کہ اس وائرس سے کیسے بچنا ہے۔ 90 فیصد کورونا کے وائرس خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں عوام احتیاط کے طور پر زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزاریں، ملنا جلنا بند کریں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے سے گریز کریں، ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قوم متحد رہے، ہم اس وبا کے خلاف جنگ ضرور جیتیں گے۔
سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے 15 جنوری سے کرونا وائرس کیخلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت چائنہ میں یہ وائرس پھیل چکا تھا کورونا کے معاملے پر افراتفری پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کا نزلہ ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خطاب کا مقصد قوم کو کورونا کی روک تھام کیلئے اقدامات پر اعتماد میں لینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ 97 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ 90 فیصد ایسے افراد ہوتے ہیں جنہیں معمولی زکام ہوتا ہے ۔ وائرس سے متاثرہ صرف4 سے 5 فیصد افراد کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ دنیا میں اب تک ایک لاکھ 90 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہیں ۔ اس وائرس کی خطرناک صورتحال یہ ہے کہ یہ انتہائی تیزی سے پھیلتا ہے اگر 100 افراد متاثر ہوتے ہیں تو 3فیصد لوگوں کیلئے زیادہ خطرناک ہے یہ 3فیصد وہ لوگ ہیں جن کی یا تو عمر زیادہ ہے یہ ان کو کوئی بیماری ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ معلوم تھا کہ چین میں وائرس پھیلا ہے تو یہ پاکستان بھی پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں جیسے ہی پتہ چلا تو چین کے ساتھ ہماری بات چیت شروع ہو گئی۔ چین کے بعد ہمارا دوسرا پڑوسی ملک ایران ہے جہاں قُم میں وائرس شروع ہوا اور وہاں جانے والے ہمارے زائرین متاثر ہوئے ہم مسلسل ایرانی حکومت کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پاکستانی زائرین واپس بلوچستان سرحد پر پہنچے جہاں سہولتیں فراہم کرنا مشکل تھا ۔ ویران علاقے میں اقدامات پر بلوچستان حکومت اور فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وبا نے پھیلنا ہے کیونکہ ہم سے بہتر سہولتوں والے ملکوں میں یہ تیزی سے پھیلی۔ ہماری حکومت نے اس معاملے پر نظر رکھنے کیلئے قومی رابطہ کمیٹی قائم کی۔ ہماری صورتحال امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں سے مختلف ہے ۔
وزیراعظم نے کہاکہ کورونا کے معاملے پر ایک اقتصادی کمیٹی بھی بنائی گئی۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔ وینٹی لیٹرز کی دستیابی بھی یقینی بنانے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ عالمی سطح پر وباءپر قابو پانے کیلئے اقدامات پر بھی نظر ہے۔ وباءسے نمٹنے کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے ۔ صدر عارف علوی چین کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ کورونا سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ کورونا وائرس سے سب سے پہلے برآمدات متاثر ہوں گی۔ اقتصادی کمیٹی کا مقصد کورونا کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔














