کورونا وائرس سے جنگ صرف قوم جیت سکتی ہیں، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جنگ صرف قوم جیت سکتی ہیں، حکومت

نہیں اور ہم سب مل کر اس جنگ کو جیتیں گے،سہرا تمام پاکستانیوں اور تمام صوبوں کے سر ہوگا۔
وزیر اعظم نے پارلیمینٹ ہاؤس کے آئینی روم میں حکومت اپوزیشن پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس کے دوران آن لائن خطاب کیا۔اجلاس سے وزیراعظم کے چلے جانے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اجلاس سے واک آٹ کر گئے دونوں ویڈیولنک کے زریعے شریک ہوئے تھے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس وبا سے نمٹنے کی تجاویز کے لئے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔
ویڈیو کانفرنس میں خطاب کے بعد وزیراعظم عمران خان کے چلے جانے کے بعد اپوزیشن کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا اور موقف اپنایا کہ وزیراعظم اجلاس سے کیوں چلے گئے۔
محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، یہ ملک کے سربراہ کی سنجیدگی کا لیول ہے۔ ایسی صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا مناسب نہیں، واک اوٹ کرتے ہیں، اتنی بڑی وبا نے پاکستان کو متاثر کیا ہے اور یہ سنجیدگی ہے۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم کی غیر موجودگی پر افسوس ہے، ایسا لگتا ہے جیسے وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی بات نہیں سننا چاہتے۔
پوری قوم نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی سنجیدگی دیکھی، میں واک آٹ کے علاوہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں اسی لیے وہ احتجاجا واک آؤٹ کرتا ہوں۔
اجلاس کے دوران جے یو آئی) ف)کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تنقید، سیاست کا وقت نہیں، قومی سلامتی کی بات ہے۔ پاکستان میں ہم سب نے ملکر کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی رہنماں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں کرفیو لگانے سے پہلے اپنی تیاری کرنی ہوگی، کرفیو کی صورت میں رضاکاروں کی مدد لیں گے، جلد رضا کاروں کے پروگرام کا اعلان کروں گا۔ کورونا پر 15 جنوری کو میٹنگ کی تھی، چین کے ساتھ رابطے میں رہے، ایران کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، چین میں پاکستانی طلبہ کو رکھنا اچھا فیصلہ تھا، چین سے ایک بھی کورونا کیس پاکستان نہیں آیا، پاکستانی زائرین ایران گئے ہوئے تھے، ایران کے پاس کورونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دبا ؤبڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا، 9 لاکھ لوگوں کی اب تک ایئر پورٹس پراسکیننگ کرچکے، تقریبا 900 افراد کورونا وائرس کے مریض ہیں، کورونا کے صرف 153 مقامی کیس ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، ہر وہ جگہ بند کر دی جہاں لوگ اکٹھے ہوسکتے تھے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارا خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاؤن ابھی نہیں لگانا، ٹرانسپورٹ کی بندش سے کنسٹرکشن کا شعبہ متاثر ہوگا، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی ہے۔سندھ لاک ڈاؤن کے حوالے سے پنجاب سے آگے ہے، خوف سے فیصلے مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں، ایسے لاک ڈاؤن پر نہیں جانا چاہتے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو جائے،کرفیو لگایا تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا، کیا ہمارے پاس گھروں میں کھانا پہنچانے کے انتظامات ہیں