حکومت سندھ کی آئی جی پولیس کو لاک ڈاؤن کو سخت کرنے کی ہدایت

کراچی(ویب ڈیسک)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کیسز کی مقامی

ٹرانسمیشن مجموعی کیسز کا 10 فیصد ہوگئی ہے لہٰذا یہ ایک خطرناک رجحان ہے، ہمیں لازمی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اور لاک ڈان کے حکومتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہوگا،لہٰذا میں نے کریانہ کی دکانوں اور اسٹور کے اوقات میں ہفتہ سے تین گھنٹوں تک کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی ہاؤس میں اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، چیف سیکرٹری سید ممتاز شاہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل عمر بخاری، ہوم سیکرٹری عثمان چاچڑ، کورفائیوکے بریگیڈیئر سمیع اور انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر باری نے شرکت کی۔
وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ سکھر، لاڑکانہ میں زائرین کو چھوڑ کر کورونا وائرس کے 168 کیسز ہوئے ہیں ان میں سے 102 لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی ٹرانسمیشن کے کیسز اب بھی بڑھ رہے ہیں لہذا ہم سب کو مکمل طور پر لاک ڈان کرنا ہوگا بصورت دیگر اس پر قابو پانے کی صورتحال میں نہیں ہونگے
۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے عوام کو جاری صورتحال کی سنجیدگی کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہم نے شام 8 بجے سے صبح 8 بجے تک دکانیں بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن لوگوں نے اس کا غیر ضروری فائدہ اٹھانا شروع کردیا اور اِدھر ادھر گھومتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کریانہ وغیرہ سمیت دکانیں ہفتہ سے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔
انہوں نے آئی جی پولیس مشتاق مہر کو ہدایت کی کہ وہ حکم پر عملدرآمد کرائیں۔ وزیراعلی سندھ نے مختلف مساجد میں باجماعت نماز پڑھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کافی مشکل فیصلہ تھا جو دکھی دل سے لیا۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مناسب مشاورت کے بعد لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کا مقصد لوگوں کو مقامی ٹرانسمیشن سے بچانا ہے۔