
کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیربرائے بحری امور سیدعلی زیدی نے کہا ہے 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے اسپتالوں کیلئے کیا
کام کیا لاڑکانہ اور اندرون سندھ میں صحت کی ناکافی سہولیات ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ گھوٹکی سے خیرپور تک کسی ہسپتال میں وینٹی لیٹر نہیں ہے۔حکومت کورونا پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تمام احساس پروگرام کے تحت ایمرجنسی کیش سینٹرز کا دورہ کروں گا، مستحقین میں 144 ارب تقسیم ہونگے، روزانہ اجرت کمانے والوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا جس کی تلافی کریں گے، پورے ملک میں تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند ہیں۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ احساس پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج ہے، جس سے اب تک 24 لاکھ سے زائد لوگ استفادہ کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے بالائی سندھ میں کسی بھی علاقے میں ایک وینٹی لیٹر نہیں ہے، کسی اسپتال میں وینٹی لیٹرز نہیں۔وفاقی وزیرنے کہاکہ صوبے اور شہروں میں کورونا وائرس کی صورتِ حال مختلف ہے، پورے پاکستان کا نظام صحت یہاں سے بالکل مختلف ہے
۔علی زیدی نے کہا کہ ہمیں جانوں اور بھوک دونوں کا خیال کرنا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح کم آمدنی والا طبقہ ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے تمام وفاقی وزرا کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلام آباد سے معاملات سنبھالیں، صوبے میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔














