
کراچی (ویب ڈیسک) آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر شرجیل گوپلانی، سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ، کراچی
الیکٹرنکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر راضون عرفان،آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد، انجمن تاجرسندھ کے صدرجاوید شمس اور سندھ تاجر اتحاد کے صدر سلیم میمن ودیگر رہنما ں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کراچی سے کشمور تک طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے28دن سے دکانیں ومارکیٹیں، شاپنگ پلازہ ودیگر کاروباری مراکز بند پڑے ہیں، جس سے چھوٹے تاجراور اور ان کے ورکر کی حالت ابتر ہوچکی ہے،لوگوں کے پاس راشن تک نہیں ہے۔
دکاندار، تاجر اور ورکر پریشان ہیں اور تاجروں کے پاس ورکروں کو تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں،ہم مجبوراًآج اعلان کررہے ہیں کہ 15اپریل صبح9سے شام5بجے تک دکانیں اور کاروبار کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ کہ اگر کراچی کے مخیر تاجر اوراین جی اوز غریب آبادی میں بھوکے عوام کو راشن نہ پہنچاتے تو ہلاکتیں ہزاروں تک پہنچ جاتیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی چیمبرکے سرپرست اعلی سراج قاسم تیلی آگے آئیں چھوٹے تاجروں کی اس نازک گھڑی میں مدد کریں۔تاجر رہنماؤں نے کہاکہ شہر میں ایک ماہ لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود لوگ سڑکوں پر موجود تھے۔ تاجررہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ تاجروں کو ریلیف اور مراعات دی جائیں۔














