
اسلام آباد (ویب ڈیسک)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے حوالہ سے کوئی اختلاف نہیں تاہم نقطہ نظر مختلف ہے،
جو جائز ہے۔مساجد کا معاملہ پولیس، سیکورٹی اور امن وامان کا نہیں ہے۔
ؤ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ،وزیر اعظم فکر مند ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کو ہینڈل کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں ہے، ذخیرہ اندوزی کی بھی واضح تعریف نہیں ہے،آٹے اور چینی بحران کی مکمل رپورٹ بھی آجائے گی۔کہیں ایسا تو نہیں کہ غریب عوام کا پیسہ شوگر مل مالکان کی جیب میں چلا گیا ہو،کم از کم ایک بات تو کھلی، اگرکسی چیز کو بند رکھیں تو بدبو بہت ہوتی ہے چاہتا ہوں سب کے ساتھ مشاورت رہے، قومی حکومت کا کوئی امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات پر قومی حکومت نہیں بنتی نہیں تاہم قومی سمت کاتعین ضروری ہے،کوئی وجہ نہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے گزشتہ روز ا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ججز کے ریمارکس سے زیادہ ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا کوروناوائرس کے حوالہ سے کیس کا فیصلہ بڑا مناسب سا تھا، عدالت نے فیصلے میں بڑی اچھی باتیں کہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کو اس کے لئے قانون سازی کرنی پڑی گی کیونکہ یہ بڑی انوکھی کیفیت ہے، قوم کسی اعتبار سے تیار نہیں تھی کوئی صحت کا نظام تیار نہیں تھا، پاکستان کو تو چھوڑیے امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام ناکام ہو گئے، کبھی نہیں سوچا تھا یہ ہو گا اور اس کے لئے تیاری بھی نہیں کی گئی تھی،اس کے لئے قانون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی انوکھے ماحول کے لئے انوکھے قوانین کی ضرورت ہے۔لاک ڈاؤن پر جو صوبہ جس طرح عملدآمد کر رہا ہے وہ اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق کررہا ہے لہذا ان کو آزادی دیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالہ سے وزیر اعظم عمران خان اس قسم کا ایکشن نہیں لینا چاہتے تھے جو سندھ حکومت نے لیا وہ اس سے کچھ کمتر لینا چاہتے تھے اور کچھ جگہوں پر بڑھانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے دنیا سے بڑی اچھی بات کی کہ قرضے کا معاملہ ہمیں مفلوج کر دے گا تم برداشت کرسکتے ہو مگر یہاں لوگ مریں گے۔انسانی جان تو ایک سی ہے۔ ہم صرف آٹھ ارب ڈالرز دے سکیں گے اور ہماری تم سے تھوڑی سی آبادی کم ہے دنیا کو سوچنا چاہیے، یہ بروقت اپیل ہے۔





































