لاک ڈاون کے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی: مشیرصحت ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عید کے فوری بعد لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی

کرنا پڑے گی، پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی شاید سمجھ رہے ہیں کہ کورونا صرف عید تک تھا، اگر ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو بہت بڑا بحران پیداہوسکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے مزید کہا کہ پاکستان سے کورونا کب ختم ہوگا، کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، پاکستان میں اس وقت تقریباً 37 ہزار 700 کورونا کے مریض زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں 56 ہزار349 کورونا کے کنفرم کیسز ہیں، اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیاتو دوبارہ لاک ڈاون کرنا پڑسکتا ہے۔ظفر مرزا نے کہا کہ بازاروں میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہیں، ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اس طرح نہیں بڑھا سکے جس طرح چاہتے تھے، عوام سے کہتا ہوں بیماری کو روکنیکا سبب بنیں، پھیلانے کا نہیں، عید پر مشاہدہ رہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ عید تک یہ بیماری تھی اور اس کے بعد یہ ختم ہوجائے گی تاہم میں پاکستانیوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ احتیاطی رویہ نہ اپنایا اور اسے برقرار نہ رکھا تو صورتحال بہت بڑے سانحے میں تبدیل ہونے جارہی ہے۔