
اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پٹرول قیمتیں بڑھنے کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار
دے دی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمداسلم کی جانب سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا ہے۔عدالت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔ کیونکہ روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمت کا تعین انتظامیہ کا دائرہ اختیار ہے اور عدالتوں کو انتظامیہ کے دائرہ کا ر میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔
عدالت نے 7صفحات پرمشتمل تحریری حکم جاری کی کیا ہے اور فیصلے کی وجوہات دیتے ہوئے لکھا ہے کہ درخواست گزارنائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ اٹھایا تھا لیکن اشیا کی قیمتوں کے تعین میں متعدد فیکٹرز شامل ہوتے ہیں اور یقینی طور پر اس میں مارکیٹ میں موجود طاقتوں کی ہدایات بھی ہوتی ہیں۔ اس کا براہ راست تعلق معیشت اور انتظامیہ کی پالیسیوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہ معاملہ راست کے ایک ستون انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انتظامیہ کی سربراہی عوام کے منتخب نمائندے کرتے ہیں اور منتخب نمائندے اپنی پالیسیوں اور ان کے اثرات کے حوالے سے عوام کو جوابدہ ہیں۔عدالت نے لکھا ہے کہ کوئی انتظامیہ جان بوجھ کر غلط فیصلوں سے اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کے غصے کو دعوت نہیں دے گی۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ کیا منتخب نمائندے ایسا چاہیں گے کہ عوام کو استعمال کی اشیا قابل برداشت قیمتوں پر دستیاب نہ ہوں؟ عدالتیں نہ تو ایسے معامالت سے مہارت رکھتی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار ہے۔
عدالت کے پاس معاشی پالیسیوں سے متعلق معاملات اور چیزوں کی قیمتوں کے تیعن میں بھی مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اگر اس درخواست کو قابل سماعت قراردینا آئین میں دیئے گئے عدالتی اختیارات سے تجاوز کرنے اور انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔














