
اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں
انتخابی اصلاحات، سرکاری اداروں میں سربراہان کی تعیناتیوں، ہاﺅسنگ شعبہ میں اصلاحات اور صحت کے شعبہ میں نجی شعبہ کے اشتراک سے ہسپتالوں کے قیام جیسے اہم ایجنڈا آئٹمز پر غور کیا گیا۔
یہ بات انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران کہی۔وزیراعظم نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دیں تاکہ پسماندہ علاقوں میں وسائل کی یکساں تقسیم ممکن ہو سکے۔ وفاقی کابینہ کے اب تک 93 اجلاسوں میں 1759 فیصلے کئے گئے جن میں 1579 پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے، 28 فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہے جبکہ 46 فیصلوں عملدرآمد زیر عمل ہیں۔
کے الیکٹرک سے متعلق فیصلہ وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ہو گا جبکہ وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی کی سربراہی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں جو وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یوریا، آر ایل این جی، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کی ایڈجسٹمنٹ سمیت دیگر اہم فیصلے بھی اجلاس میں کئے گئے۔ سرکاری ملازمین کی پنشن اور حج کے حوالے سے خصوصی فنڈ کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے پرعزم ہیں، کابینہ کے اجلاس میں اعظم سواتی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔














