سارک ممالک سے تجارتی تعلقات کو فروغ ہماری اولین ترجیح ہے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کووڈ-19 کے تناظر میں تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے

پیش نظر سفارتی چیلنجوں کو سمجھنے کے لئے تھنک ٹینکس کا کردار ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے محققین کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جو ان کے زیر صدارت وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سپیشل سیکرٹری معظم احمد خان اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
دوران اجلاس خطے میں روابط کے فروغ، کووڈ 19 کے بعد بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز زیر بحث آئے۔ ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس ایس آئی)ایمبیسڈر (ر)اعزاز چودھری نے وژن 2020- 2023 کے حوالے سے وزیر خارجہ کو مفصل بریفنگ دی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بعد تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کو سامنے رکھتے ہوئے سفارتی چیلنجز کے ادراک کیلئے تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی ناگزیر ہے۔ انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک سٹڈیز کے پاس بہترین محققین موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے سفارتی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہمارے تھنک ٹینکس کو آسیان، سارک اور دیگر علاقائی فورمز پر موجود تھنک ٹینکس کے ساتھ روابط کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔