
اسلام آباد (ویب ڈیسک,فوٹو فائل)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ میرے پورے خاندان کو گرفتار کرلو،
اٹھارہویں ترمیم،آئین اور جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دینگے،دبا محسوس کررہے ہیں اور ہمیں بھی لائن میں آنے کیلئے دھمکیاں دی جارہی ہیں،ہم کل بھی دباؤ نہیں آئے اور آج بھی دباؤ میں نہیں آئینگے،کٹھ پتلی وزیراعظم ہاس میں بیٹھا ہے،اس کی ڈور کہیں اور سے ہلتی ہے، یہ نا ملٹری کورٹ ہے نا ان کیمرہ کورٹ ہے۔عوام کو حق ہے عدالت آنے کا اور کارروائی دیکھنے کا، وکلا کو عدالت آنے سے روکا گیا جس سے کارروائی میں تاخیر ہوئی، کیا یہ سب جج پر دبا ڈالنے کی کوشش تھی،یہ میرے ساتھ اور میرے خاندان کے ساتھ نفسیاتی کھیل کھیل رہے ہیں۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم محسوس کررہے ہیں کہ ہم پر دبا ہے، ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ ہم بھی لائن میں آجائیں، ہم بھی اسکرپٹ کو فالو کریں تا کہ 18ویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ہو، ایوان سے کالا قانون منظور ہو تاہم ہم کل بھی دبا میں نہیں آئے آج بھی دبا میں نہیں آئیں گے۔
،پیپلز پارٹی نے یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کی آمریت کا مقابلہ کیا، آج بھی اس کٹھ پتلی حکومت کی مخالفت کررہی ہے اور کرتی رہے گی۔پیر کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زداری کے پیشی کے موقع پر بلاول بھٹو زر داری بھی عدالت میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ آگے جا کر آپ دیکھیں کہ 1973 آئین، این ایف سی ایوارڈ، جمہوری حقوق، انسانی حقوق اس ملک کے غریب عوام کے معاشی حقوق پر میرا موقف دبا ؤ کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوگا۔عدالتی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ عدالت فوجی، اِن کیمرہ عدالت یا آمر کی عدالت نہیں کہ اسلام آباد کی پولیس فاروق ایچ نائیک، لطیف کھوسہ اور دیگر وکلا کے ساتھ بدسلوکی کی اور عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سماعت تاخیر سے شروع ہوئی اور کارروائی بھی متاثر ہوئی۔














