
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)پاکستان نے دہشت گردی اور امن وامان خراب کرنے کے بھارت کے
تمام منصوبے خاک میں ملاتے ہوئے تمام ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دیئے، افغانستان میں بھارتی سفارت تخانہ دہشت گردوں کا گڑھ اور خطے میں تباہی کا موجب ہے،پاک فوج نے بھارتی کرنل راجیش افغانستان میں بیٹھ کر تمام دہشت گردوں اور علیحدگی پسند گروپوں کے ساتھ روابط،خط وکتابت اور بھاری رقوم کی ترسیلات قوم کے سامنے رکھ دیں ،بھارت گلگت بلتستان میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
ا سٹاک ایکس چینج ،مختلف شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ ،نہتے کشمیری شہریوں کو نشانہ بنانا ،پشاور ایگریکلچر یونیورسٹی، اے پی ایس حملوں میں راملوث نکلی۔سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانے کیلئے خصوصی ملیشیا بنائی گئی، الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ کے شواہد مل گئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈوزیئر سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں حالیہ بدامنی میں اضافہ بھارت کے تمام دہشت گرد برانڈز، قوم پرست اور علیحدگی پسندوں سے براہ راست رابطوں کا نتیجہ ہے۔علیحدہ ہونے والے جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کے گست 2020 میں ساتھ آنے کے بعد تحریک طالبان پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد بھارت مسلسل بلوچستان کے کالعدم علیحدگی پسند گروہوں بی ایل ایف، بی ایل اے اور بی آر اے کے ساتھ ٹی ٹی پی کا ایک کنسورشیم بنانے میں مصروف ہے یہ بلوچ علیحدگی پسند گروہ پہلے ہی براس کے بینر تلے متحد ہیں، براس 2018 میں بنائی گئی تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کرنل راجیش جو افغانستان میں بھارتی سفارتخانے میں ملازم تھے جنہوں نے دری زبان میں خط میں واضح لکھا کہ ان کی ان دہشت گرد گروہوں کے کمانڈرز کے ساتھ 4 ملاقاتیں ہوئی ہیں کہ پاکستان کے میٹروپولیٹن شہروں کراچی، لاہور اور پشاور میں نومبر اور دسمبر 2020 میں دہشت گردی کی کارروائی کی جائے۔بھارت نے بلوچستان میں انتشار کیلئے 23.5 ملین ڈالر دیئے۔
اسٹاک ایکس چینج حملے میں بھارتی باردو، خودکش جیکٹس استعمال ہوئیں، بھارت گلگت بلتستان میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را نے مختلف شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کا بھی منصوبہ بنایا، بھارتی افواج نے کل نہتے کشمیری شہریوں کو نشانہ بنایا، پشاور ایگریکلچر یونیورسٹی، اے پی ایس حملوں میں را ملوث تھی، ان حملوں کی ویڈیوز افغانستان سے اپ لوڈ کی گئیں۔
میجر جنرل بابر افتخار کا مزیدکہنا تھا بھارتی سفارتخانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بن چکے، بھارتی کرنل راجیش نے 4 بار دہشتگردوں سے افغان سفارتخانے میں ملاقات کی، بھارت نے 30 داعش دہشتگردوں کو پاکستان منتقل کیا، بھارت کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کر رہا ہے، را کی طرف سے ٹی ٹی پی کی معاونت کے ثبوت بھی ہیں، دہشتگرد تنظیموں کو مختلف ذرائع سے رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ بھارت نے سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانے کیلئے خصوصی ملیشیا بنائی، الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی کی فنڈنگ کے شواہد ہیں، بھارت دہشتگردوں کو اسلحہ اور بارود بھی فراہم کر رہا ہے، عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے علما کرام ان لوگوں کا ہدف ہے، بھارت دہشتگردوں کے تربیتی مراکز کی پشت پناہی کر رہا ہے، دہشتگردوں کے 66 تربیتی مراکز افغانستان، 21 بھارت میں ہیں۔














