
کراچی(رنگ نو ڈاٹ کام )جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے مظالم و لوٹ
مار اور 5بچوں سمیت 22افراد کی ہلاکت کے خلاف منگل 6اگست کو کراچی بھرمیں 50سے زائد مقامات پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوں گے،متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم نہ ہوا، ورثاء کو معاوضہ نہ دیا گیا اور 22افراد کے قتل کی ایف آئی آر کے الیکٹرک کے سربراہ عارف نقوی، مونس علوی اور اکرام سہگل کے خلاف درج نہ کی گئی تو عید الاضحی کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس پراحتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔
کےالیکٹرک کی مجرمانہ غفلت ولاپرواہی اورکرنٹ لگنے سے کراچی میں 22افراد کی اموات کے خلاف کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کےسامنےاحتجاجی مظاہرےسےخطاب کرتےہوئےانہوں نےکہا عمران خان بتائیں کہ اگر میانوالی میں یہ واقعہ ہوتا تو کیا وہ متاثرہ خاندانوں کے گھر نہیں جاتے؟ وزیر اعظم عارف نقوی کے خلاف کوئی بات کیوں نہیں کرتے،وفاقی وصوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں سمیت کون کون کے الیکٹرک کی سرپرست اور پشتیبان ہیں ان کے چہرے بے نقاب ہونے چاہیئں ۔
احتجاجی مظاہر ے سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی
کے صدر و امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈوکیٹ،رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبدا لرشید ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
مظاہرے میں ملیر میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے دونوں بچوں اعراف قریشی اور عمر فاروق کی ماؤں نے بھی شر کت کی اور خطاب کیا۔
مظاہرے میں ہزارہ کالونی، ڈیفنس زمزمہ، گلشن معمار ودیگر علاقوں سے آئے ہوئے اور کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے شہریوں نے کے الیکٹرک کے ظلم و ستم اور زیادتیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ورثاء کے خاندانوں کو فی کس 5کروڑ روپے ادا کیے جائیں، کے الیکٹرک کے سربراہان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔مظاہرے میں کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف زبردست نعرے بھی لگائے، مظاہرے میں شرکاء نے کے الیکٹرک،حکومت اور نیپرا کی ملی بھگت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے تھے جن پر تحریر تھا کہ کے الیکٹرک سوداگر، تانبا چور کے الیکٹرک کو بھاگنے نہیں دیں گے، کے الیکٹرک اندھیروں کے سوداگر، کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں پر ظلم بند کرو، کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں دو، اووربلنگ ختم کرو، کے الیکٹرک کی من مانی نامنظور، کے الیکٹرک جواب دو، خون کا حساب دو،مظاہرے میں شرکاء کی جانب سے کے الیکٹرک کا علامتی جنازہ بھی نکالا۔














