
لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان میں سکھوں کے 2مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب ہے، جہاں سکھ مذہب کے
بانی بابا گورونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور ہے، جہاں بابا گورونانک نے اپنی عمر کے آخری 18 سال گزارے اور یہیں وفات پائی۔گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے جو لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اور پاک بھارت سرحد سے صرف 4کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔
یہ گوردوارہ دریائے راوی کے کنارے چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں آباد ہے، یہ گاؤں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتاہے، سفید رنگ کا یہ خوبصورت گوردوارہ دور سے دیکھنے میں ایک پرندے کی مانند لگتا ہے۔گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی باباگورونانک دیو جی نے اپنی عمر کے آخری 18 سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارے اور 22 ستمبر 1539کو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔
گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی، موجودہ عمارت 1920ء سے 1929ء کے درمیان پٹیالہ کے مہاراجا سردار بھوپندر سنگھ نے تعمیر کرائی، 1995ء میں حکومتِ پاکستان نے اس کی دوبارہ مرمت کی، جولائی 2004ء میں یہ گوردوارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تقسیمِ ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آگیا تھا، تقریباً 56 سال تک سکھ زائرین اس کی زیارت کے منتظر رہے۔

انہوں نے بھارتی سرحد پر دور درشن استھان بنا رکھے تھے، جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے اس کا دیدار کیا کرتے تھے۔سکھ برادری کئی دہائیوں تک راہداری کی تعمیر کا مطالبہ کرتی رہی، دونوں ملکوں کی پچھلی حکومتوں نے 1998ء، 2004ء اور 2008ء میں راہداری کی تعمیر کے لیے ابتدائی بات چیت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھارتی کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی، جس میں اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔2018ء میں حکومتِ پاکستان نے کرتار پور راہداری اور گوردوارہ دربار صاحب کی تعمیر و توسیع کا کام شروع کیا۔صرف 11 ماہ کی قلیل مدت میں دریائے روای پر پل سمیت راہداری کی تعمیر اور گوردوارے کی تعمیر و توسیع کا کام مکمل کر لیا گیا۔ 24 اکتوبر 2019ء کو دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔
گوردوارہ دربار صاحب پہلے صرف 4 ایکڑ پر محیط تھا، اب اسے 42 ایکڑ پر وسعت دے کر دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا گیا ہے، جس کے ارد گرد کی 8سو ایکڑ اراضی بھی گوردوارے کے لیے مختص کر دی گئی ہے، جبکہ گوردوارے سے ملحقہ 26 ایکڑ اراضی پر باغات اور 36 ایکڑ پر فصلیں اگائی گئی ہیں، تزئین و آرائش کے علاوہ یہاں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔














