پاکستان بھارت کے درمیان کسی بھی بیک چینل ڈپلومیسی کو مسترد کرتے ہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی بیک چینل ڈپلومیسی کو مسترد

کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے پیش نظر بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، او آئی سی کشمیر کے معاملہ پر مستقل طور پر پاکستان سے تعاون کر رہی ہے۔
پاکستانی عوام کی او آئی سی سے توقعات ہیں، چاہتے ہیں کہ او آئی سی اپنا قائدانہ کردار ادا کرے، پاکستان نے عدالتی حکم کے مطابق کلھبوشن معاملہ پر بھارت کو ایک اور موقع دینے کیلئے رابطہ کیا ہے، 14 اگست کو سیّد علی گیلانی کو نشان پاکستان دیا جائے گا۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کا ایک سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں یوم استحصال منایا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا۔
بھارت نے گزشتہ ایک سال سے لاکھوں کشمیریوں کو فوجی محاصرے میں رکھا اور پوری وادی کو بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پوری دنیا میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ بدھ کو بھارت کی بھرپور مخالفت کے باوجود مسئلہ کشمیر ایک سال کے اندر تیسری بار سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا گیا، چین نے مسئلہ کشمیر پر بیان جاری کیا۔ مسئلہ کشمیر پر ایک سال کے اندر تین بار سلامتی کونسل میں بحث پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق حل طلب ہے، سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر بحث واضح کرتی ہے کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک اور عالمی برادری مسلہ کشمیر کے حل میں سنجیدگی دکھا رہے ہیں۔ ترجمان نے پاکستان کے سیاسی نقشے کے اجراء پر بھارتی بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ سیاسی نقشے کے اجراء پر تمام ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا۔