ہاں یہ ہی دن تھے
اور یہی تھیں راتیں
چلے تھے جب
راہ بر کی اک پکار پر
لبیک کہہ کر
کافروں کے دیس سے
بے سروسامانی کی حالت میں
لٹے پٹے سے قافلے
الوداع گاؤ ں کو کہہ کر
متاعیں اپنی دل میں سمائے
بے گور و کفن لاشے
گھروں اور رستوں میں چھوڑ کر
اک نئی منزل کی جانب
کلمہ حق کی خاطر
جھکانے جبینیں
مقدس زمیں پر
امیدوں کی جوت جگائے
رواں دواں تھے قافلے
لبوں پہ تھا اللّہ اکبر
آ ج بھی وہی دن ہیں
اور وہی راتیں
قائد کی پکار پر
چل پڑے ہیں دیوانے
چھیننے حقوق اپنے
غاصب سرکار سے
بےضمیر انسان سے
لٹیرے حکمران سے
آ ج بھی نگاہوں میں
امید کے ہیں روشن چراغ
کے جان اپنی دیکر ہم
اس ملک کو سنواریں گے
اس ملک کو نکھاریں گے
قلعہ اسلام بنائیں گے
لبنیٰ صدف














