بنت قدس

اے بنت قدس
تو محترم ہے بہت
دل موہ لیا ہے میرا
تیری اداؤں نے
ماحول ہے ظلم اور جبر کا
دل بھی ہے شکستہ تیرا
ناراض ہے
مغموم ہے
تیرے پھولوں سے رس رہا ہے لہو
سر کا سائباں
اوڑھ کے مٹی کا کفن
تجھ سے دور
بہت دور ہے
تیرا گلشن ہے بکھرا
تنکوں کی طرح
پھر بھی تو کر رہی ہے ادا
رب کے احکام کو
رب کے فرمان کو
لب پر ہے تیرے سدا
حسبنا اللہ حسبنا اللہ

 

لبنیٰ صد