وعدہ

 

اے اہل غزہ

یہ وعدہ رہا

ہم تم کو کبھی نہ بھولیں گے

تنہا کبھی نہ چھوڑیں گے

ہر محفل میں تنہائی میں

ذکر تمہارا چھیڑیں گے

گھنگھور گھٹا ہو

یا تاروں کا جھرمٹ

سورج کی تپتی گرمی ہو

یا پھولوں سے مزین ہو یہ سماں

خوشیوں کی باراتیں ہوں

یا تنہا تنہا راتیں ہوں

اے اہل غزہ

یہ وعدہ رہا

ہم تم کو کبھی نہ بھولیں گے

 

لبنیٰ صدف